وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ کے مترادف ثابت ہوا، پارٹی نے مارچ کی کوئی تیاری نہیں کی تھی۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دہشتگردوں کی مذمت نہیں کرتے، ان کا دہشتگردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: کیا یہ واقعی حکومت کی سیاسی جیت ہے؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہوچکی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میرے بیان پر کہا گیا کہ ’ہمارا مارچ، ہماری مرضی‘، اصل میں نہ ہی تمہارا مارچ ہے اور نہ تمہاری مرضی۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنی سیاسی ساکھ کھو چکے ہیں اور ان کی اپنی پارٹی کے اندر رٹ ختم ہوچکی ہے۔
’وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا‘
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پوری امت مسلمہ کا مقدمہ لڑا اور مسئلہ فلسطین پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اسرائیل کے مظالم کی کھل کر مذمت کی، پاکستان کے فلسطین کے لیے جذبات صرف الفاظ کی حد تک نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق فلسطین کے نمائندوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کو سراہا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ جبکہ اسلاموفوبیا کی بھی مذمت کی۔
لانگ مارچ کا بہت شور تھا لیکن کچھ نہیں نکلا، اختیار ولی خان
اس موقع پر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہاکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا بہت شور تھا لیکن عملی طور پر کچھ نہیں نکلا۔
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کو احتجاج کے چیمپیئن کے طور پر سامنے لایا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز احتجاج مؤخر کرنے کے لیے یہ لوگ سوچ رہے تھے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کے سارے بیانات میڈیا اسٹنٹس تھے۔
انہوں نے سوال کیاکہ اگر تحریک انصاف نے بھاگنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی؟
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مؤخر: 5 اکتوبر کو یوم فتح منائیں گے، سہیل آفریدی
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیاکہ تحریک انصاف والے اپنی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتے ہیں۔














