امریکی ریاست ٹیکساس کے 81 سالہ شخص ڈونلڈ ‘ڈان’ جانسن کی کہانی نے لاکھوں افراد کو متاثر کردیا، جو اپنی اہلیہ جوزفین کے کینسر کے علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے روزانہ 14 گھنٹے کام کررہے ہیں۔
ڈونلڈ اور جوزفین کی شادی کو 57 سال ہوچکے ہیں، ڈونلڈ آزاد ڈرائیور کے طور پر کئی سو میل کا سفر کرکے ایئرلائنز کا گمشدہ سامان متعلقہ افراد تک پہنچاتے ہیں تاکہ اہلیہ کے علاج کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی کا بھارت: 75 سالہ بزرگ کو بیوی کے علاج کے لیے 300 کلومیٹر رکشہ چلانا پڑا
اس واقعے کا علم اس وقت ہوا جب جوڑے کی بیٹی ایمی جانسن نے گھر کے باہر لگے کیمرے کی ریکارڈنگ دیکھی۔ ویڈیو میں ڈونلڈ کو تھکن سے چور حالت میں بھاری سوٹ کیس سیڑھیوں سے اوپر لے جاتے دیکھا گیا۔
بیٹی نے محسوس کیا کہ ان کے والد اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مالی مجبوری کے باعث کام کررہے ہیں، جس کے بعد اس نے ان کی مدد کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کردی۔
View this post on Instagram
ایمی جانسن نے ‘ہیلپ ڈان ریٹائر’ کے نام سے چندہ مہم شروع کی، جس کا مقصد ڈونلڈ کو سخت محنت سے ریٹائر ہونے میں مدد دینا اور خاندان پر موجود مالی بوجھ کم کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر کی مریضہ نے لاعلاج قرار دیے جانے کے 5 دن بعد شادی کر لی
کہانی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور لوگوں نے بڑی تعداد میں عطیات دینا شروع کردیے۔ چندہ مہم کے ذریعے لاکھوں ڈالر جمع ہونے لگے، تاہم بعد میں چندہ جمع کرنے والے پلیٹ فارم نے مہم کو ‘حقائق کی غلط نمائندگی’ کے باعث بند کردیا۔
مہم چلانے والی ایمی نے ابتدا میں خود کو جوڑے کی بیٹی کے بجائے مقامی رہائشی ‘ایرن ہاول’ کے طور پر ظاہر کیا تھا، جس پر عطیات دینے والوں کو رقم واپس کردی گئی۔
بعد ازاں خاندان نے زیادہ واضح تعارف کے ساتھ نئی چندہ مہم شروع کی تاکہ جوزفین کے علاج سے متعلق طبی قرض ادا کیا جا سکے اور ڈونلڈ کو بالآخر سخت مشقت سے ریٹائر ہونے کا موقع مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی شہری کو بیمار بیوی کے علاج کے لیے 50 ٹن شکر قندی عطیہ، دل چھو لینے والی کہانی
ڈونلڈ جانسن نے لوگوں کی جانب سے ملنے والی غیر متوقع مدد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں، جس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ رہنے اور کینسر کے خلاف ان کی جدوجہد میں ساتھ دینے پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔














