کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ اسی بات کے مصداق پیٹرول کی بڑھتی قیمت سے تنگ آکر کوئٹہ کے ایک مکینک نے اپنی مدد آپ کے تحت ایسا رکشہ تیار کرلیا ہے جو سولر اور لیتھیم بیٹری سے چلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کے دیسی ساختہ ایئر کولر، ’کم دام بہترین کام‘
کوئٹہ کے شہری نور محمد نے کباڑ سے ملنے والے ایک پرانے فریم کو نئی شکل دے کر سولر رکشہ تیار کیا جس پر تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے لاگت آئی۔
نور محمد کے مطابق رکشے میں سولر پینلز کے ساتھ لیتھیم بیٹری نصب کی گئی ہے جبکہ اس کا اگلا حصہ کراچی سے حاصل کیا گیا۔
شمسی توانائی کی مدد سے ایک مکمل چارج پر یہ رکشہ تقریباً 120 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہے۔
نور محمد کا کہنا ہے کہ اس رکشے میں ایک وقت میں 5 سے 6 بچے بآسانی سفر کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کے مسائل کوئٹہ ہی میں حل کیے جائیں گے، میرسرفراز بگٹی
انہوں نے بتایا کہ یہ رکشہ انہوں نے بنیادی طور پر اپنے بچوں کو اسکول، ٹیوشن سینٹر لانے لے جانے اور دیگر ضروری کاموں کے لیے تیار کیا ہے۔
گزشتہ 8 برسوں سے بطور مکینک کام کرنے والے نور محمد نے بتایا کہ کباڑ سے فریم ملنے کے بعد انہوں نے گھر پر ہی تقریباً 25 دن میں رکشہ تیار کرلیا تھا۔
نور محمد کے مطابق بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو فنی تربیت اور اپنی صلاحیتیں آزمانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والی 10 پاور کمپنیاں کون سی ہیں؟
یہ سولر رکشہ اب کوئٹہ کی سڑکوں پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور نور محمد کا تیار کردہ یہ مقامی ماڈل مہنگے ایندھن کے ایک زبردست توڑ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔













