پشاور ہائیکورٹ : ڈاکٹر وردہ قتل کیس کے مرکزی ملزم کی درخوست ضمانت مسترد

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغوا اور قتل کیس کے مرکزی ملزمان میں شامل وحید احمد عرف وحید بِلّا کی درخواست ضمانت مسترد کردی، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں تعینات میڈیکل افسر ڈاکٹر وردہ مشتاق 4 دسمبر 2025 کو اپنی دوست ردا وحید کے ہمراہ اسپتال سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوگئی تھیں۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق واقعے کی وجہ 67 تولے سونے کے زیورات کا تنازع تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر وردہ قتل کیس، مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

ڈاکٹر وردہ کی لاش 8 دسمبر 2025 کو تھنڈیانی کے قریب لاری بنوٹہ کے جنگلات سے سرچ آپریشن کے دوران برآمد ہوئی تھی۔

واقعے کا مقدمہ کینٹ تھانے میں اغوا سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر وردہ کی موت کی تصدیق کے بعد مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 اور دیگر متعلقہ دفعات کے ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کردی گئی تھی۔

پولیس نے اس کیس میں ردا وحید، ندیم زیب اور پرویز سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جبکہ شمریز کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا۔ ردا وحید کے شوہر وحید احمد بھی اس مقدمے میں ملزمان میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں اہم پیش رفت، آلہ قتل اور قیمتی اشیا برآمد

مئی 2026 میں پشاور ہائیکورٹ نے مقدمے کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت کے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ تاوان کے لیے اغوا کا جرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 اے کے تحت انسداد دہشتگردی عدالت میں قابل سماعت ہے، تاہم دہشتگردی کی دفعہ کے اطلاق کا انحصار استغاثہ کی جانب سے قانونی تقاضے پورے کرنے پر ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp