وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی سمیت گورنر راج اور سیاسی مذاکرات کے تمام آپشنز میز پر ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ہونے کے بعد اسی کے مطابق پیشرفت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ سوات اور بنوں کے حالیہ واقعات میں شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد افغانستان کی جانب سے دراندازی کرکے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہاں سے آگے راستہ بنا کر لاہور اور کراچی تک پہنچیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نہ صرف امن و امان اور دہشتگردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی بلکہ دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کے راستے میں بھی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا بیانیہ وفاقی حکومت کے بیانیے کے بالکل خلاف ہے، دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرنے کے بجائے کہا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے دہشتگردی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے سے انکاری ہونے کے ساتھ وفاق کے لیے مزید الجھاؤ اور مشکلات پیدا کرنے کے لیے لانگ مارچ کا اعلان بھی کرچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج آخری آپشن، صوبے میں جنازے اٹھ رہے ہیں اور پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کرتی ہے، گورنر خیبرپختونخوا
رانا ثنااللہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام دستیاب آپشنز پر کام کیا جاتا ہے۔ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے جاسکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج بھی آتا ہے۔ ان کے مطابق وفاق صوبے کا کنٹرول براہ راست سنبھال سکتا ہے اور کسی کو منتظم مقرر کیا جاسکتا ہے، اگر گورنر کے ذریعے اختیار سنبھالا جائے تو اسے گورنر راج کہا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آرٹیکل 232 کے تحت گورنر کو اختیار دینا لازم نہیں بلکہ یہ ایک آپشن ہے، جبکہ سیاسی مذاکرات بھی میز پر موجود ہیں۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ہر مسئلے کا سیاسی حل بھی ہوسکتا ہے، صوبائی حکومت اپنی سیاست اور سیاسی مطالبات اپنی جگہ رکھ سکتی ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی اور دہشتگردی کے معاملے پر اسے وفاق اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور دہشتگردی کے خلاف وفاق کی پالیسی کے مطابق اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں فریقین کو اپنی کچھ پوزیشنز میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے، لیکن اگر کسی صوبائی حکومت سے صرف یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو، دہشتگردی کی مذمت کرے اور دہشتگردی روکنے کے لیے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری کرے تو اس کے بدلے کسی مطالبے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد نقصان دیتا ہے، 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2 سال پیچھے دھکیل دے گا، رانا ثنااللہ
رانا ثنااللہ نے بلوچستان حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وزیراعلیٰ سمیت پوری حکومت دہشتگردی کے خلاف پوری لگن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میز پر بعض معاملات پر بات ہوسکتی ہے، جن میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت اور وفاقی پالیسیوں کا ساتھ دینا شامل ہے، جبکہ دوسری جانب کچھ ریلیف بھی دیا جاسکتا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک مطالبہ عمران خان کی رہائی بھی ہے، تاہم عمران خان کی رہائی عدالت سے ہی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ریلیف دینے کے دیگر آپشنز موجود ہیں، جن میں انہیں نجی اسپتال میں علاج کی سہولت دینا یا بنی گالا کو سب جیل قرار دے کر وہاں منتقل کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو طبی سہولیات، مناسب علاج اور دیکھ بھال کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور ان کے خیال میں انہیں بہتر علاج فراہم کیا جارہا ہے۔
ملاقاتوں پر پابندی کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ پابندی ابتدا میں نہیں تھی، تاہم ملاقات کی سہولت حاصل کرنے کے بعد اس کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق بار بار کہا گیا کہ ایسا نہ کیا جائے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کے تمام کام غیر آئینی ہیں، گورنر راج کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا، رانا ثنا اللہ
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والی آخری ملاقات کے بعد بھی پریس کانفرنس کی گئی اور وہی عمل دہرایا گیا جس کی بنیاد پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔














