بحیرہ بالٹک میں بڑھتی کشیدگی، روس کی نیٹو کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی وارننگ

بدھ 30 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے بحیرہ بالٹک سے متصل روسی علاقے کیلینن گراڈ کو روس سے الگ کرنے کی کوشش کی تو ماسکو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق نیٹو کو بھیجی گئی ایک دستاویز میں روس نے اتحاد پر خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اس کے نتیجے میں براہ راست مسلح تصادم شروع ہونے کے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کو یوکرین جنگ میں مداخلت پر روس کی سخت دھمکی، فوجی تنصیبات نشانہ بنانے کا انتباہ

دستاویز کے مطابق تنازع شروع ہوتے ہی روس نیٹو کے رکن ممالک میں موجود ان حکومتی اور فوجی مراکز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جہاں سے اہم فیصلے اور فوجی احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر نیٹو ممالک کیلینن گراڈ کے علاقے کو ملک کے باقی حصے سے الگ تھلگ کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں تو روس اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے پاس موجود تمام افواج اور صلاحیتوں، بشمول جوہری ہتھیاروں کے مکمل استعمال کے لیے تیار ہوگا۔

نجی سطح پر دی گئی اس وارننگ کے علاوہ گزشتہ 3 روز کے دوران کم از کم 3 یورپی ممالک میں روسی سفارت خانوں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں، جن میں نیٹو پر فوجی مشقوں اور کیلینن گراڈ سے متعلق جنگی منصوبہ بندی کے منظرناموں کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

روس نے یورپ کے لیے خطرہ ہونے کے مغربی الزامات کو بھی مسترد کردیا ہے۔

روسی بیانات میں کہا گیا ہے کہ ماسکو کا نیٹو ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم کیلینن گراڈ کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب انتہائی سخت ردعمل کی صورت میں دیا جائےگا۔

روس کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی ممالک روس پر براعظم میں تخریب کاری اور آتش زنی سمیت مختلف کارروائیوں کے ذریعے ہائبرڈ جنگ تیز کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور مغربی سیاست دانوں کے ان بیانات کو بھی مسترد کرتا ہے کہ ماسکو نیٹو کے کسی ملک پر ممکنہ فوجی حملے کی تیاری کررہا ہے۔

نیٹو کی ’غیر ذمہ دارانہ جوہری بیان بازی‘ کی مذمت

نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے تصدیق کی کہ روس نے اتحاد کو ایک نان پیپر بھیجا ہے، تاہم انہوں نے اس کے مندرجات ظاہر نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا، ’ہم نے جواب بھیجا ہے اور واضح کیا ہے کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے اور ہماری کوئی بھی سرگرمی یا مشق روس کے کسی بھی حصے کے لیے خطرہ نہیں۔ ہم طاقت کے استعمال کی دھمکی، بشمول کسی بھی غیر ذمہ دارانہ جوہری بیان بازی کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کے خلاف اپنی بلااشتعال جنگ ختم کرے۔‘

ایک سینیئر یورپی دفاعی عہدیدار نے کہا، ’سرد جنگ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ روس ہمیں اس طرح دھمکی دے رہا ہے، اس لیے یہ معاملہ سنجیدہ ہے۔‘

نیٹو کے ایک سفارت کار نے کہا، ’میں کہوں گا کہ روسی خط یورپیوں کو خوف زدہ کرنے کی روس کی ایک اور کوشش ہے اور نیٹو کا جواب مضبوط اور ذمہ دارانہ ہے۔ یہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ ہم یوکرین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔‘

کریملن نے بدھ کو کہاکہ کیلینن گراڈ کے معاملے پر نیٹو کو روس کی جانب سے دی گئی جوہری وارننگ کا مقصد یورپ کے جوشیلے عناصر کو روس کی موجودہ پالیسی کی شقیں یاد دلانا تھا۔

مزید پڑھیں: یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، ’یہ بالکل فطری بات ہے کہ ہمارے سفارت کار یورپ کے جوشیلے عناصر کو اس معاملے پر ہماری پالیسی دستاویزات یاد دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp