یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خلائی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خلا تیزی سے عالمی تنازعات کا نیا محاذ بنتا جارہا ہے، جہاں سیٹلائٹس کی نگرانی، مواصلاتی نظام میں مداخلت اور خلائی ہتھیاروں کی دوڑ نے نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 24 فروری 2022 کو روس کے یوکرین پر حملے سے چند گھنٹے قبل یوکرین اور وسطی یورپ میں ہزاروں سیٹلائٹ موڈمز اچانک بند ہو گئے تھے۔ امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر کاری بنگن کے مطابق یہ دراصل جنگ کا پہلا حملہ تھا، جس کا مقصد یوکرین کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پر اسرار خلائی اشیا : چین اور امریکہ میں جاسوسی کی نئی جنگ

خلائی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق روس کے لوچ-1 اور لوچ-2 نامی سیٹلائٹس نے جنگ کے آغاز سے اب تک یورپ کے کم از کم 12 جغرافیائی مدار میں موجود سیٹلائٹس کے مواصلاتی سگنلز کی نگرانی یا مداخلت کی ہے۔

فرانسیسی کمپنی الڈوریا کے مدار کے تجزیہ کار نوربرٹ پوزین کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایک سست رفتار مقابلے کی طرح ہے، جس میں دونوں سیٹلائٹس ایک دوسرے کی حرکات اور ردعمل کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران مواصلاتی سگنلز میں رکاوٹ ڈالنے اور جعلی سگنلز بھیجنے جیسے طریقے عام ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چین بھی اپنی فوج میں ایسی صلاحیتیں رکھتا ہے، جبکہ ایران کے پاس بھی جامنگ ٹیکنالوجی اور بعض خلائی ہتھیار موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خلائی ڈیٹا سینٹر زمین کے ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، ماحولیاتی تنظیموں کا انتباہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس کو تباہ کرنے والے ہتھیار سب سے زیادہ خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔ 2007 میں چین نے ایک ناکارہ موسمیاتی سیٹلائٹ کو میزائل سے تباہ کیا تھا، جس سے خلائی ملبہ پیدا ہوا جو اندازاً 70 برس تک مدار میں موجود رہے گا۔ اس کے بعد امریکا نے بھی آپریشن برنٹ فراسٹ کے تحت اپنے ایک سیٹلائٹ کو تباہ کیا تھا۔

رپورٹ میں روس کے کوسموس 2553 سیٹلائٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے 2022 میں یوکرین پر حملے سے چند ہفتے قبل خلا میں بھیجا گیا تھا۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایسے پروگرام کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو غیر فعال کرنا ہو، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

برطانوی تحقیقی ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی ماہر جولیانا سوئیس کے مطابق اگرچہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیار کا استعمال بعید از قیاس ہے، کیونکہ چین بھی خلائی انفراسٹرکچر پر انحصار کرتا ہے، تاہم اسے آخری انتہائی اقدام کے طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ

ادھر مغربی ممالک اپنے خلائی اثاثوں کے تحفظ کے لیے چھوٹے ’گارڈین سیٹلائٹس‘ تیار کرنے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ جاپان، فرانس، بھارت اور جرمنی بھی اسی نوعیت کی دفاعی صلاحیتوں پر کام کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘