پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل پنجاب کے ارکان اسمبلی اور رہنما روپوش ہوگئے؟

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے تیاریاں جاری ہیں تاہم پنجاب میں احتجاج کی قیادت کون کرے گا یہ سوال کارکنوں کے لیے سب سے بڑی الجھن بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ غریب عوام کی پریشانیاں مزید بڑھادے گا، خیبر کے نوجوانوں کا تبصرہ

پارٹی ذرائع کے مطابق کارکن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے تیار ہیں مگر اس بات کا واضح جواب سامنے نہیں آ رہا کہ پنجاب سے اس قافلے کی قیادت کون کرے گا۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی کال پر کارکن لبیک کہتے ہیں تاہم رہنما اور ارکان اسمبلی گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔ کارکنوں کے مطابق پولیس کے چھاپوں کا سلسلہ گھروں تک پہنچ چکا ہے جس کے بعد متعدد ارکان پنجاب اسمبلی اپنے حلقے اور رہائش گاہیں چھوڑ کر کہیں چھپ گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کی قیادت کو لانگ مارچ کیوں ’موخر‘ کرنا پڑا؟

اسی سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تینوں بہنوں کو بھی تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پارٹی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی لانگ مارچ سے پہلے قیادت کو میدان سے ہٹانے کی کوشش ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی بھی ان دنوں دستیاب نہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ رابطے میں نہیں آ رہے اور ان کا فون بھی بند جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے دیا

کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر صوبے کی سطح پر کوئی بڑا رہنما قافلے کے آگے کھڑا نہیں ہوتا تو پنجاب سے لانگ مارچ کیسے نکلے گا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp