پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر تیزی کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھنے کے نتیجے میں انڈیکس نے 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوپہر 1 بج کر 11 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای انڈیکس 862.50 پوائنٹس یعنی 0.51 فیصد کمی کے بعد 169,106.82 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر مندی، انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کمی
مارکیٹ میں اہم شعبوں کے حصص میں فروخت دیکھی گئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل ہیں۔
ڈی جی خان سیمنٹ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، یونائیٹڈ بینک، نیشنل بینک، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور پاکستان اسٹیٹ آئل سمیت انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے متعدد شیئرز بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

گزشتہ روز یعنی بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا تھا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر کمپنیوں کے شیئرزمیں منتخب خریداری کے باعث انڈیکس 368.92 پوائنٹس، یعنی 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید دباؤ کے بعد سرمایہ کار امریکی افراطِ زر اور شرح سود کے آئندہ فیصلوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
اگست میں امریکا کی افراطِ زر توقعات سے کم بڑھنے کے اعداد و شمار کے بعد رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریڈرز اب 28 اکتوبر کو شرح سود میں اضافے کا امکان 38 فیصد دیکھ رہے ہیں، جو ایک روز قبل 50 فیصد تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
ایشیائی مارکیٹوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی بھی معمولی کمی کا شکار ہوا۔
جاپان کا نکیئی انڈیکس ایک فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتا رہا۔ دوسری جانب یورپی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔














