الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اوپن اے آئی و اینتھروپک جیسے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جیمینائی 4 سیریز کا جدید ترین ماڈل ’جیمینائی 4 آرگن‘ متعارف کرا دیا ہے۔
تاہم کمپنی نے فی الحال اسے عام صارفین کے لیے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گوگل کے مطابق ’آرگن‘ تک ابتدائی طور پر صرف منتخب اور جانچے پرکھے سائبر سیکیورٹی ماہرین اور شراکت داروں کو رسائی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج
کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کی طاقتور صلاحیتوں کے ممکنہ غلط استعمال، خصوصاً ہیکرز کی جانب سے ان کے استعمال، کے خدشات کے پیش نظر ماڈل کو مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے۔
گوگل کے چیف اے آئی آرکیٹیکٹ کورے کاوکچو اولو نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ اس سطح کی جدید اے آئی صلاحیتوں کو محفوظ انداز میں جاری کرنے کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی ضروری ہے۔
Google's Gemini 4 Argon is here! Here is everything you need to know about the new AI model👇https://t.co/HklgnFf9Db pic.twitter.com/Cvb4jQlTTE
— Digit (@digitindia) October 1, 2026
کمپنی کے ترجمان کے مطابق ’آرگن‘ گوگل کے سابق جدید ترین ’پرو‘ ماڈلز کے مقابلے میں حجم کے اعتبار سے بھی بڑا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اہم کوڈنگ اور سائبر سیکیورٹی بینچ مارکس میں ’آرگن‘ کی کارکردگی اوپن اے آئی کے ’آسٹرا‘ اور اینتھروپک کے ’اوپس‘ جیسے جدید ماڈلز کے مساوی رہی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق بعض صنعتی بینچ مارکس میں ’آرگن‘ نے ان حریف ماڈلز سے بہتر کارکردگی بھی دکھائی، تاہم تمام پیمانوں پر اسے برتری حاصل نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں: گوگل نے لانچ سے پہلے ہی اے آئی سٹوڈیو موبائل ایپ کیوں منسوخ کی؟
گوگل نے ’آرگن‘ کو منتخب سائبر سیکیورٹی شراکت داروں تک محدود رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے اس رضاکارانہ عمل میں شرکت کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت جدید اے آئی ماڈلز کو عام دستیابی سے قبل مخصوص ماہرین کو فراہم کیا جاتا ہے۔
کمپنی نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ’جیمینائی 4 آرگن‘ عام صارفین کے لیے کب دستیاب ہوگا۔
دوسری جانب گوگل نے ’جیمینائی 3.5 پرو‘ کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے, چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے اس ماڈل کو جون میں جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کی ریلیز میں تاخیر ہوتی رہی۔
Google Launches Gemini 4 Flagship AI Model After Months of Delays
Google has officially unveiled Gemini 4 Argon, its new flagship AI model, after months of delays and internal changes at its DeepMind division.
The model is designed for advanced software engineering, enterprise… pic.twitter.com/npFuYgF0Km
— TechAmerica (@techamericaofcl) October 1, 2026
اس دوران گوگل نے اپنی اے آئی لیب ڈیپ مائنڈ میں بھی تنظیمی تبدیلیاں کیں اور جیمینائی ماڈلز پر کام کرنے والے کئی اہم رہنماؤں نے کمپنی چھوڑ دی۔
گوگل کے ماڈلز کی ریلیز میں تاخیر ایسے وقت میں ہوئی جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے اپنے جدید ماڈلز کے ذریعے اے آئی تحقیق کے میدان میں مسلسل پیش رفت کی۔
تاہم پچائی نے جولائی میں اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ گوگل اے آئی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔
حالیہ عرصے میں گوگل نے اپنی حکمت عملی کے تحت جیمینائی کی جدید صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ حریف ماڈلز کے مقابلے میں اس کی کم لاگت کو بھی نمایاں کرنا شروع کیا ہے۔














