گوگل کا نیا طاقتور اے آئی ماڈل آرگن متعارف، عوامی رسائی فی الحال ممکن نہیں

جمعرات 1 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور اوپن اے آئی و اینتھروپک جیسے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جیمینائی 4 سیریز کا جدید ترین ماڈل ’جیمینائی 4 آرگن‘ متعارف کرا دیا ہے۔

تاہم کمپنی نے فی الحال اسے عام صارفین کے لیے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گوگل کے مطابق ’آرگن‘ تک ابتدائی طور پر صرف منتخب اور جانچے پرکھے سائبر سیکیورٹی ماہرین اور شراکت داروں کو رسائی دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’گوگل اے آئی خلاصہ گلے پڑگیا‘، آن لائن ٹریفک متاثر ہونے پر ببلشرز کا احتجاج

کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کی طاقتور صلاحیتوں کے ممکنہ غلط استعمال، خصوصاً ہیکرز کی جانب سے ان کے استعمال، کے خدشات کے پیش نظر ماڈل کو مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے۔

گوگل کے چیف اے آئی آرکیٹیکٹ کورے کاوکچو اولو نے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ اس سطح کی جدید اے آئی صلاحیتوں کو محفوظ انداز میں جاری کرنے کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی ضروری ہے۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق ’آرگن‘ گوگل کے سابق جدید ترین ’پرو‘ ماڈلز کے مقابلے میں حجم کے اعتبار سے بھی بڑا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اہم کوڈنگ اور سائبر سیکیورٹی بینچ مارکس میں ’آرگن‘ کی کارکردگی اوپن اے آئی کے ’آسٹرا‘ اور اینتھروپک کے ’اوپس‘ جیسے جدید ماڈلز کے مساوی رہی ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق بعض صنعتی بینچ مارکس میں ’آرگن‘ نے ان حریف ماڈلز سے بہتر کارکردگی بھی دکھائی، تاہم تمام پیمانوں پر اسے برتری حاصل نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: گوگل نے لانچ سے پہلے ہی اے آئی سٹوڈیو موبائل ایپ کیوں منسوخ کی؟

گوگل نے ’آرگن‘ کو منتخب سائبر سیکیورٹی شراکت داروں تک محدود رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے اس رضاکارانہ عمل میں شرکت کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت جدید اے آئی ماڈلز کو عام دستیابی سے قبل مخصوص ماہرین کو فراہم کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ’جیمینائی 4 آرگن‘ عام صارفین کے لیے کب دستیاب ہوگا۔

دوسری جانب گوگل نے ’جیمینائی 3.5 پرو‘ کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے, چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے اس ماڈل کو جون میں جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کی ریلیز میں تاخیر ہوتی رہی۔

اس دوران گوگل نے اپنی اے آئی لیب ڈیپ مائنڈ میں بھی تنظیمی تبدیلیاں کیں اور جیمینائی ماڈلز پر کام کرنے والے کئی اہم رہنماؤں نے کمپنی چھوڑ دی۔

گوگل کے ماڈلز کی ریلیز میں تاخیر ایسے وقت میں ہوئی جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے اپنے جدید ماڈلز کے ذریعے اے آئی تحقیق کے میدان میں مسلسل پیش رفت کی۔

تاہم پچائی نے جولائی میں اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ گوگل اے آئی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔

حالیہ عرصے میں گوگل نے اپنی حکمت عملی کے تحت جیمینائی کی جدید صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ حریف ماڈلز کے مقابلے میں اس کی کم لاگت کو بھی نمایاں کرنا شروع کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp