اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے قصور میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، غلط و زائد بلوں، بجلی چوری کے مقدمات اور شہریوں کی جانب سے گھروں پر مبینہ چھاپوں کی شکایات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گورنر ہاؤس میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے حقوق کا تحفظ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
دو روز قبل قصور میں ہونے والی بعض کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ شہریوں کی شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اہم فیصلہ، عوام کو کتنا فائدہ ہوگا؟
ان کا کہنا تھا کہ قصور کے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی بند رہنے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگ پہلے ہی مسائل سے دوچار ہیں۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ماضی میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے گئے تھے، اس لیے آج شہریوں کو گھنٹوں بجلی کی بندش کا سامنا کیوں ہے، اس کا جواب بھی متعلقہ حکام کو دینا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ قصور کے بجلی مسائل کے حوالے سے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے بات کی ہے اور شہریوں کی شکایات ان کے سامنے رکھی ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں 500 کے وی اے سے زائد نجی جنریٹرز پر بجلی ڈیوٹی عائد کرنے کا بل منظور
ان کا کہنا تھا کہ معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔
اسپیکر نے کہا کہ شہریوں کی جانب سے گھروں پر مبینہ چھاپوں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
’غلط یا زائد بل جاری کرنے اور بل درست کرنے کے عوض مبینہ رقم طلب کرنے کی شکایات پر بھی متعلقہ اداروں کو جواب دینا چاہیے۔‘
مزید پڑھیں: کیا پنجاب میں ایک گھر پر بجلی کے 2 میٹر لگانے پر پابندی لگ گئی؟
ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، تاہم کسی ایک شخص کی مبینہ خلاف ورزی کی سزا پورے علاقے یا گاؤں کے شہریوں کو دینا مناسب نہیں۔
’لائن لاسز پورے کرنے کے لیے عام صارفین کو گھنٹوں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرانا بھی قابل قبول نہیں۔‘
ملک محمد احمد خان نے لیسکو افسران کو ہدایت کی کہ وہ ایئرکنڈیشنڈ کمروں تک محدود رہنے کے بجائے فیلڈ میں جا کر زمینی صورتحال کا جائزہ لیں اور عوامی شکایات خود سنیں۔
مزید پڑھیں: جا بجا لٹکتی بجلی کی تاروں سے چھٹکارا، مریم نواز نے پنجاب کے عوام کو خوشخبری سنادی
انہوں نے کہا کہ اگر پولیس ویڈیو شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کر رہی ہے تو بجلی چوری کے مقدمات میں نامزد افراد کے خلاف شواہد کی مکمل جانچ ہونی چاہیے، اگر ویڈیو میں نامزد افراد موجود نہیں تو اس پہلو کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔
اسپیکر نے کہا کہ ان کا ردعمل غصے کے بجائے عوامی مسائل پر شدید بے چینی کا اظہار ہے، عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقوں کے مسائل متعلقہ فورمز پر اٹھائیں، قصور کے شہریوں کی شکایات ہر متعلقہ فورم پر اٹھاتا رہوں گا۔














