مذاکرات ناکام، وفاق کا خیبر پختونخوا میں مختلف آئینی اقدامات پر غور، صوبے پر کنٹرول کس کا ہوگا؟

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے سے متعلق دستیاب آئینی راستوں پر غور مزید تیز کر دیا ہے۔

تاہم معاملہ اب صرف اس سوال تک محدود دکھائی نہیں دیتا کہ ایمرجنسی لگائی جائے یا گورنر راج نافذ کیا جائے، بلکہ حکومتی حلقوں سے سامنے آنے والے تازہ اشارے بتاتے ہیں کہ آئین میں موجود مختلف اختیارات اور اقدامات کو بیک وقت یا مرحلہ وار استعمال کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک اعلیٰ سطحی ذریعے سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے تو اس نے کہا کہ اس کے خیال میں دونوں اقدامات کے لیے ضروری حالات موجود ہیں اور آئین میں فراہم کردہ ’اقدامات کے امتزاج‘ کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس ممکنہ امتزاج کی حتمی نوعیت ابھی واضح نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے مذاکرات ناکام، لانگ مارچ شروع، پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے اور پی ٹی آئی نے مارچ شروع کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد کی، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے مؤقف اور مطالبات کو قبول نہ کرنے کو مذاکرات میں تعطل کی وجہ قرار دیا گیا۔

’ آئینی اقدامات ‘ سے کیا مراد ہے؟

سیاسی بحث میں ’آئینی اقدامات‘ سے مراد ایسے غیر معمولی اختیارات ہیں جو وفاقی ریاستی اداروں کو مخصوص سنگین حالات سے نمٹنے کے لیے آئین فراہم کرتا ہے۔ ان میں ہر اقدام کا مقصد، قانونی بنیاد، طریقہ کار اور صوبائی حکومت یا اسمبلی پر اثر مختلف ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں بنیادی طور پر آئین کے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 زیر بحث ہیں۔ آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے سنگین داخلی خلفشار کی صورت میں ایمرجنسی سے متعلق ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو، جبکہ آرٹیکل 234 اس صورت سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق چلانے کے قابل نہ رہے اور آئینی مشینری کی ناکامی کی صورتحال پیدا ہو۔

اسی لیے دونوں کو عام طور پر ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ ایمرجنسی کا بنیادی تعلق غیر معمولی سیکیورٹی یا داخلی بحران سے ہے، جبکہ گورنر راج کا آئینی تصور صوبے میں آئینی نظام کے ناکام ہونے سے متعلق ہے۔

’آئینی اقدامات کے امتزاج‘ کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟

وفاقی حکومت کے ذرائع کی جانب سے استعمال کی گئی ’امتزاج‘ کی اصطلاح اس وقت خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت صرف ایک غیر معمولی اقدام پر انحصار کرنے کے بجائے آئین کے مختلف متعلقہ اختیارات کو ان کے اپنے دائرہ کار میں استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہو۔

تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت لازماً آرٹیکل 232 اور 234 دونوں بیک وقت نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انصار عباسی کی رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اس ممکنہ ’امتزاج‘ کی درست شکل ابھی سامنے نہیں آئی۔

محسن نقوی کی گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 4 اکتوبر کو پشاور میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی سیکیورٹی، سیاسی صورتحال اور پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر ہاؤس کے بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اس خدشے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ مارچ کے دوران دہشتگرد سیکیورٹی چیک پوسٹوں سے محفوظ طریقے سے گزرنے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف صوبے کو دہشتگردی اور تباہی سے بچانے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشتگردی کے باعث بہت نقصان اٹھا چکا ہے، اس لیے تمام اداروں کو مل کر عوام کے تحفظ اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

مارچ، مذاکرات اور آئینی راستوں کا آپس میں تعلق

موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آئینی آپشنز پر غور ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی مذاکرات جاری تھے۔ انصار عباسی کے مطابق، فریقین کے درمیان مذاکرات میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا میں اقدامات سے متعلق ایک فریم ورک زیر بحث آیا تھا، مگر صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان بعض بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا۔

اس وقت بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ایمرجنسی لگے گی یا گورنر راج آئے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت جس ’آئینی اقدامات کے امتزاج‘ کا ذکر کر رہی ہے، اس میں کون سے مخصوص اختیارات شامل ہوں گے، ان کے لیے آئینی شرائط پوری ہوتی ہیں یا نہیں، اور ان کا صوبائی حکومت، صوبائی اسمبلی اور وفاق کے اختیارات پر عملی اثر کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے حکومت نے پی ٹی آئی سے کون سے 7 مطالبات کیے؟ طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

آئین کا آرٹیکل 232 سیکیورٹی اور داخلی خلفشار سے نمٹنے کے لیے ایک غیر معمولی آئینی راستہ فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں وفاق کو کہیں زیادہ براہ راست انتظامی کردار ادا کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔ اسی لیے دونوں شقوں کو ایک ہی نوعیت کا اقدام سمجھنا درست نہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ’امتزاج‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کے باوجود اس کی حتمی شکل ابھی واضح نہیں ہے۔ چنانچہ آئینی طور پر فیصلہ کن مرحلہ یہ ہوگا کہ حکومت کس مخصوص شق یا شقوں کو کس بنیاد پر استعمال کرتی ہے اور آئین میں مقررہ طریقہ کار، بالخصوص متعلقہ اداروں اور پارلیمنٹ کے کردار، کو کس طرح پورا کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp