کہیں آپ کے بھی اردگرد کوئی سائیکوپیتھ تو نہیں؟ جانیے ایسے شخص کی اہم علامات

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفتر میں تقریباً ہر شخص کا واسطہ ایسے ساتھی سے ضرور پڑتا ہے جس کے ساتھ کام کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ کوئی حد سے زیادہ مسابقتی ہوسکتا ہے، کوئی اپنے فائدے کے لیے دوسروں کو استعمال کرتا ہے جبکہ کچھ افراد کامیابی حاصل کرنے کے لیے جھوٹ یا جوڑ توڑ سے بھی گریز نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: بار بار ہاتھ دھونا، چیزیں چھونا یا دروازہ چیک کرنا، او سی ڈی کیا ہے اور انسان ایسا کیوں کرتا ہے؟

لیکن کیا ہر مشکل یا خود غرض ساتھی کو سائیکوپیتھ کہا جاسکتا ہے؟ ماہرین کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ بعض افراد میں ایسی شخصیتی خصوصیات ضرور ہوسکتی ہیں جنہیں سائیکوپیتھک رویوں سے جوڑا جاتا ہے لیکن صرف چند منفی عادات یا سخت مزاجی کی بنیاد پر کسی شخص کو سائیکوپیتھ قرار دینا درست نہیں۔

ایک سابق بینکر کا تجربہ بھی اس حوالے سے خاصا دلچسپ ہے جنہوں نے بتایا کہ مالیاتی شعبے کے انتہائی مسابقتی ماحول میں کامیاب ہونے کے لیے انہوں نے اپنے اندر موجود بعض ’تاریک‘ شخصیتی خصوصیات کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کردیا تھا۔

سائیکوپیتھی کیا ہوتی ہے؟

سائیکوپیتھی کوئی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں بلکہ ایک اصطلاح ہے جو بعض ایسی شخصیتی خصوصیات کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں دوسروں کے جذبات اور حقوق کی پروا نہ کرنا، ہمدردی کی کمی، دوسروں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا، پچھتاوے یا احساس جرم کی کمی اور جوڑ توڑ جیسے رویے شامل ہوسکتے ہیں۔

اس کا تعلق اینٹی سوشل پرسنالٹی ڈس آرڈر یعنی غیر سماجی شخصیتی عارضے سے ہوسکتا ہے تاہم دونوں اصطلاحات کو ایک دوسرے کا مترادف سمجھنا درست نہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے افراد ہمیشہ پرتشدد یا مجرمانہ نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگ معمول کی زندگی گزارتے ہیں، ملازمت کرتے ہیں اور بظاہر کامیاب بھی نظر آتے ہیں تاہم ان کے رویوں میں دوسروں کا استحصال، ہمدردی کی کمی یا ذاتی مفاد کو ہر چیز پر ترجیح دینا نمایاں ہوسکتا ہے۔

کیا کام کی جگہ ایسے رویوں کو بڑھا سکتی ہے؟

لندن میں مالیاتی شعبے میں تقریباً 12 سال کام کرنے والے گیرینٹ اینڈرسن نے بتایا کہ انہیں محسوس ہوا کہ بعض کارپوریٹ ماحول میں حد سے زیادہ اعتماد، جذبات سے لاتعلقی، دوسروں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت، انتہائی مسابقتی رویہ اور فوری فیصلے کرنے جیسی خصوصیات کو کامیابی سے جوڑا جاتا ہے۔

اینڈرسن کے مطابق وہ ابتدا میں صرف چند برس مالیاتی شعبے میں کام کرنا چاہتے تھے لیکن جلد ہی کامیابی اور زیادہ آمدنی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگئیں۔

مزید پڑھیے: سماجی گھبراہٹ بڑھانے والی پوشیدہ عادتیں کون سی ہیں؟ جانیے ان سے نمٹنے کے طریقے

انہوں نے بتایا کہ بونس اور مالی کامیابی ان کے لیے اپنی قدر اور کامیابی ناپنے کا ایک ذریعہ بن گئے۔ ان کے بقول دفتر کے ماحول میں آگے بڑھنے کے لیے انہوں نے اپنے اندر بے خوفی، بظاہر دلکش اندازِ گفتگو اور جذباتی لاتعلقی جیسی خصوصیات کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ اس ماحول میں کامیاب ہونے کے لیے اپنی شخصیت کا ایک ایسا رخ سامنے لا رہے ہیں جو ان کے لیے قدرتی نہیں تھا۔

دفتر میں کن رویوں پر توجہ دینی چاہیے؟

ماہرین کے مطابق کسی ایک علامت سے سائیکوپیتھک خصوصیات کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ایسے رویے جو بار بار اور مستقل طور پر سامنے آئیں توجہ طلب ہوسکتے ہیں۔

ان میں دوسروں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا، مسلسل جوڑ توڑ کرنا، جھوٹ بولنا یا حقائق کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنا، دوسروں کے جذبات کی پروا نہ کرنا، اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام دوسروں پر ڈالنا اور تعلقات کو صرف ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنا شامل ہوسکتا ہے۔

ایسے افراد بظاہر انتہائی پراعتماد، ملنسار اور پُرکشش شخصیت کے مالک بھی ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ظاہری رویے کی بنیاد پر ان کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

کیا ایسا شخص اچھا لیڈر بھی ہوسکتا ہے؟

کارڈیف یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ نفسیات رابرٹ اسنوڈن جنہوں نے سائیکوپیتھی پر طویل عرصے تک تحقیق کی ہے کے مطابق بعض ایسی شخصیتی خصوصیات رکھنے والے افراد مضبوط اور پراعتماد رہنما دکھائی دے سکتے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قیادت کا مرکز صرف خود فرد ہو اور اس میں دوسروں کے جذبات اور ضروریات کے لیے ہمدردی موجود نہ ہو۔

مزید پڑھیں: کھانے کی خرابی کی بیماری تنہائی میں بڑھتی ہے، حل کیا ہے؟

اسنوڈن کے مطابق سائیکوپیتھی کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک دوسروں کے لیے ہمدردی کی کمی ہے۔ ایسے افراد ضروری نہیں کہ کسی کو جسمانی نقصان پہنچائیں لیکن وہ دوسروں کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں اور ان کے جذبات کی زیادہ پروا نہ کریں۔

’ڈارک ٹرائیڈ‘ کیا ہے؟

نفسیات میں ڈارک ٹرائیڈ کی اصطلاح 3 شخصیتی خصوصیات کے مجموعے کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں نرگسیت، میکیاویلیئن ازم اور سائیکوپیتھک خصوصیات شامل ہیں۔

ان خصوصیات میں حد سے زیادہ خود پسندی، دوسروں کو قابو کرنے اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان، جذباتی بے حسی اور پچھتاوے کی کمی شامل ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر

بعض انتہائی مسابقتی کام کی جگہوں پر ان میں سے کچھ رویے وقتی طور پر کامیابی میں مددگار دکھائی دے سکتے ہیں لیکن طویل مدت میں یہ رویے ملازمین، ٹیم اور ادارے کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

کیا ہر کامیاب یا سخت مزاج شخص سائیکوپیتھ ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق ہرگز نہیں۔ کسی شخص کا پراعتماد ہونا، مشکل فیصلے کرنا، مسابقتی ہونا یا دباؤ میں پرسکون رہنا بذات خود سائیکوپیتھی کی علامت نہیں۔ اسی طرح کسی ایک موقعے پر جھوٹ بولنا، غصہ کرنا یا ذاتی مفاد کو ترجیح دینا بھی کسی شخص کو سائیکوپیتھ ثابت نہیں کرتا۔

سائیکوپیتھک خصوصیات کو سمجھنے کے لیے رویوں کے مستقل نمونے، ان کی شدت اور دوسرے لوگوں پر ان کے اثرات کو دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی ساتھی یا باس کی ذاتی تشخیص کرنا درست نہیں۔

ایک شخص نے خود کو کیوں تبدیل کیا؟

اینڈرسن کے مطابق کارپوریٹ دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے کے باوجود ایک وقت ایسا آیا جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ ایسے ماحول کا حصہ بن چکے ہیں جہاں لالچ، ضرورت سے زیادہ خطرہ مول لینا اور اصولوں کی خلاف ورزی معمول بنتی جارہی تھی۔

مزید پڑھیں: ٹوٹتے رشتے صرف دل ہی نہیں صحت بھی برباد کردیتے ہیں، صورتحال تبدیل کیسے کی جائے؟

انہوں نے بالآخر مالیاتی شعبہ چھوڑ دیا اور ایک اخباری کالم نگار بن گئے جہاں انہوں نے کارپوریٹ دنیا کے اندرونی ماحول، عیش و عشرت اور بعض غیر صحت مند رویوں پر لکھنا شروع کیا۔

بعد میں ان کے تجربات کتاب کی صورت میں بھی سامنے آئے جس نے بڑی تعداد میں قارئین کی توجہ حاصل کی۔

’حالات انسان کے رویے کو بدل سکتے ہیں’

اینڈرسن کا بعد میں ایک فرانزک ماہر نفسیات نے بھی جائزہ لیا جس نے انہیں سائیکوپیتھ قرار نہیں دیا۔ تاہم ماہر کے مطابق ممکن ہے کہ انہوں نے ایسے ماحول میں کامیاب ہونے کے لیے اپنی شخصیت کی کچھ ’ تاریک‘ خصوصیات کو وقتی طور پر زیادہ نمایاں کردیا ہو جہاں بے رحمانہ مسابقت کو انعام ملتا تھا۔

ماہر کے مطابق کسی شخص کو کامیاب ہونے کے لیے سائیکوپیتھ ہونا ضروری نہیں لیکن بعض ایسے ماحول میں جہاں بے حسی، انتہائی خود غرضی اور بے رحمانہ مسابقت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہو لوگ اپنی شخصیت کے انہی پہلوؤں کو زیادہ نمایاں کرسکتے ہیں۔

اینڈرسن کے مطابق کارپوریٹ دنیا چھوڑنے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ نرم مزاج اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے والے انسان بننا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اب وہ زندگی میں دیانت داری کو ترجیح دینے اور دوسروں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے یا بے رحمانہ رویہ اپنانے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کیا بدظنی انسان کو دھوکہ کھانے سے بچالیتی ہے؟

یہ تجربہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کام کی جگہ کا ماحول صرف ملازمین کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ بسا اوقات ان کے رویوں اور شخصیت کے اظہار پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp