رات سویا تو امید کی اس ڈوری سے بندھا تھا کہ بیرسٹر گوہر کی معاملہ فہم طبیعت اس بار کوئی حل نکال لے گی ۔ صبح اٹھا تو بیرسٹر گوہر کا اترا ہوا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں ۔ خبروں کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا ان مذاکرات میں پارٹی کا اپنا چیئر مین ایسے ہی تھا جیسا خواب میں واؤ معدولہ ہوتا ہے۔ سندیسے کہیں اور سے آ رہے تھے۔ کوئی قاصد کوئٹہ سے آ رہا تھا کوئی کہیں سے۔ تحریک انصاف اپنے ہی اشتعال انگیز بیانیے اور ناقص حکمت عملی کے سونامی کا شکار ہو چکی تھی ۔ بند گلی میں اب اس کے لیے کوئی رستہ موجود ہی نہ تھا۔ اس نے ہر دروازہ ، ہر کھڑکی اور ہر روزن خود بند کیا ہے۔
مذاکرات تو ، فی الوقت ، ناکام ہو گئے ۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟ اس کا جواب سہیل آفریدی کے تازہ ٹویٹ میں ہے جو غالباً عین اسی وقت کیا گیا جب مذاکرات ناکام ہوئے۔ اپنے لانگ مارچ کو تازہ بیانیہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: ’ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جنہین کولیٹرل ڈیمیج کا نام دیا جاتا ہے‘۔
حیرت ہے کہ اس ٹویٹ میں دہشتگردی کا کوئی ذکر ہی نہیں ، دہشتگردی کی کوئی مذمت ہی نہیں صرف پاکستانی فورسز کو نشانے پر رکھا گیا ہے کہ ان کے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں کی وجہ سے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں ۔ یہ یعنی مذاکرات کی ناکامی پر وزیراعلیٰ کے پی کا جوابی وار تھا۔ اس جوابی وار کا متن اور یہ نفسیاتی کیفیت جس میں یہ ٹویٹ کیا گیا، دونوں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ان کو سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے ۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ رد عمل میں دیا گیا کوئی ٹویٹ ہے، یہ ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جیسے قانون کی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ فلاں آرٹیکل کو فلاں آرٹیکل سے ملا کر پڑھا جائے تو یہ مطلب نکلتا ہے، اسی طرح اس ٹویٹ کو جنید اکبر صاحب کے سومنات والے رجز سے ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے تحریک انصاٖف کی یہ قیادت کہاں کھڑی ہے اور کس رخ پر جا رہی ہے۔
اس میں مزید پیچھے چلے جائیں تو ہمیں اسی نفسیات کے مظاہر جا بجا ملتے ہیں۔ یہاں کہا گیا کہ خان نہیں تو کچھ بھی نہیں، یہاں یہ بھی کہا گیا کہ ان لوگوں کو حکومت دینے سے بہتر ہے ملک پر ایٹم بم مار دیا جائے، یہاں کہا گیا کہ اس ملک میں اب رہنے سے بہتر ہے ہم افغانستان چلے جائیں۔ اس طرح کے ڈھیروں بیانات ہیں لیکن پارٹی قیادت نے کبھی کسی بیان پر کسی کی سرزنش نہیں کی۔ اور اب خود صوبے کا وزیراعلیٰ وہ بیانات دے رہا ہے جو خواجہ آصف کے الزامات کی تائید کر رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کو شاید احساس نہیں ہو رہا کہ وہ اپنی ہی جماعت اور اپنے خلاف فرد جرم مرتب کر رہے ہیں۔ جوش جنوں میں یہ بات پارٹی وابستگان کو بھی ابھی سمجھ نہیں آئے گی لیکن یہ رویہ بہت خطرناک ہے۔ جب بات سمجھ میں آئے گی تب بہت دیر ہو چکی ہو گی۔
اگر پالیسی یہ ہے کہ ہم اس رویے سے ریاست کو دبا لیں گے تو شاید یہ ممکن نہیں ہے۔ اس سے پہلے یہ تھا کہ ہم احتجاج کریں گے اور شہر بند کر دیں تو ریاست کو دبا لیں گے، وہ بھی نہیں ہو سکا۔ سیاست کے مسائل کتنے ہی شدید کیوں نہ ہو جائیں وہ بصیرت اور معاملہ فہمی سے ہی حل ہو سکتے ہیں، اس رویے سے حل نہیں ہو سکتے۔
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ سیاسی بصیرت کہاں ہے؟ یہ مذاکرات کے دوران نظر کیوں نہیں آئی؟ پارٹی کے فیصلے پارٹی کی سیاسی قیادت کے بجائے دوسروں سے کیوں کروائے جا رہے ہیں ؟
سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کے لیے ماحول ناسازگار ہے تو دوسروں کے لیے سازگار ہوا ہے۔ اس اضطراری ماحول میں، وہ قومی اسمبلی کی صرف ایک سیٹ کے ساتھ قائد حزب اختلاف بنے بیٹھے ہیں۔ یہ اضطراب کی حالت نہ ہوتی تو قائد حزب اختلاف تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں سے ہوتے۔
میں کسی پر شک نہیں کر رہا، لیکن انسانی نفسیاست سے جڑا یہ سوال تو بہر حال موجود ہے کہ وہ اس ماحول کو سازگار کیوں کریں گے یا ہونے دیں گے جب کہ وہ جانتے ہیں اس کا پہلا نقصان ان ہی کو ہوگا۔ چیزیں جیسے معمول کی جانب لوٹیں گی، وہ بھی معمول کی جانب لوٹا دیے جائیں گے۔
تحریک انصاف اپنے ہی سونامی کی زد میں ہے، جیسے کوئی درویش اپنے ہی عشق میں غرق ہو جائے۔ اس نے شروع سے اب تک اپنے کارکنان میں جس جنون کو فروغ دیا ہے اب یہ اسی جنون کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی ہے۔ اس جماعت میں معقول بات کرنے والے رہنماؤں پر زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے اور پھر وہ رو پڑتے ہیں کہ میرے ہی کارکنان مجھے غدار کہہ رہے ہیں۔ جب جنون کا عالم یہ ہو تو یہاں مذاکرات میں یہ کوئی معقول بات کیسے مان سکتے ہیں۔
مذاکرات لو اور دو کا نام ہوتا ہے اور تحریک انصاف نے اپنے وابستگان کو یہ سکھایا ہی نہیں کہ سیاست بند گلی سے رستے نکالنے کا نام ہے۔ انہیں یہی سکھایا گیا ہے کہ تمہارے علاوہ سب چوراچکے ہیں، صرف تمہارا قائد ہی معیار حق ہے۔ تمہارے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں، وہ اس دنیا میں بلاوجہ ہی آ گئے ہیں۔ اس سوچ کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر معاملہ سومنات کی فتح جیسا ہوتا ہے۔ چنانچہ اب یہ قیادت خود خوفزدہ ہے کہ کوئی معقول بات کی تو کارکنان جینا حرام کر دیں گے۔
سہیل آفریدی کا ٹویٹ بتا رہا ہے کہ تحریک انصاف کس سمت میں جا رہی ہے۔ یہ اس سے پہلے سانحہ مشرقی پاکستان کے ردیف قافیے کتنی ہی بار ملا چکے ہیں، اٹھتے بیٹھتے ان کا وتیرہ بن چکا ہے کہ یہ ’ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا‘ کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کی یہ قیادت شاید کوئی فیصلہ کر چکی ہے اور یکسو ہے۔ یہ کھائی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













