مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری مشکلات کے خلاف پشاور میں سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسمبلی چوک پر خیبر روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا اور خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حکومت کی ترجیحات میں تاجر برادری اور عام شہریوں کے مسائل کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔
مظاہرین کے مطابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی بھی عوام اور تاجر برادری سے مؤثر رابطہ نہیں کررہے۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے باعث راستوں کی بندش سے پنجاب کے ساتھ ہونے والی تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار تاجر برادری کو کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے باعث مزید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیاکہ صوبائی حکومت تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی، جبکہ گرفتار سیاسی کارکنوں کے معاملات میں بھی مناسب داد رسی نہیں کی جا رہی۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے لیے متعدد بار درخواستیں کیں، تاہم انہیں ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا۔
ان کے مطابق پنجاب میں تاجر برادری کے ساتھ حکومتی سطح پر رابطے اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں تاجروں کو اپنی شکایات اور مسائل حکام تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مظاہرین نے خبردار کیاکہ اگر حکومت نے تاجر برادری اور عوام کے مسائل پر توجہ نہ دی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اور تاجر برادری عوام کو ساتھ ملا کر صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر احتجاج صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا۔













