وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاست کا مسئلہ نہیں، جلسے جلوس کی اجازت ہے، تاہم ریاست کو یرغمال بنانے یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں اختیار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2 سال کے دوران قریباً 6 ہزار 200 دہشتگردی کے واقعات ہوئے جبکہ ان واقعات میں قریباً 12 ہزار افراد شہید ہوئے۔ افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے جبکہ رواں سال صوبے میں 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک دوسرے کے سیاسی و عسکری ونگ ہیں، اختیار ولی خان
انہوں نے کہا کہ پولیس اور بالخصوص محکمہ انسداد دہشتگردی دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہا ہے، اسے پشتونوں پر حملہ قرار نہیں دینا چاہیے۔ پولیس اہلکاروں کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔
اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ سی ٹی ڈی میں صرف 25 اہلکار مستقل بنیادوں پر تعینات ہیں جبکہ باقی عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سی ٹی ڈی کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلز اور 11 نائٹ ویژن ڈیوائسز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی نے سی ٹی ڈی کے لیے 42 ارب روپے مانگے تھے لیکن صوبائی حکومت نے صرف 14 ارب روپے منظور کیے، جبکہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود منظور شدہ رقم میں سے صرف ایک ارب 40 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو گزشتہ 13 سال سے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پالیسی بنانے اور اس پر عملدرآمد کا موقع حاصل ہے، سوال یہ ہے کہ ان 13 برسوں میں صوبے کے لیے کیا کیا گیا۔
اختیار ولی نے کہا کہ وفاق، فوج اور ریاست پشتون قوم کے تحفظ کے لیے فکر مند ہیں اور پورے ملک میں دہشتگردی کے خلاف یکساں پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کا مکمل خاتمہ قومی پالیسی ہے اور دہشتگردی کا ہر صورت قلع قمع کرنا ہوگا۔
انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پشتون کارڈ استعمال کرکے معاشرے میں انتشار اور قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی پشتون، کبھی مذہبی اور کبھی مدینہ کی ریاست کا حوالہ دے کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اختیار ولی نے کہا کہ پشتون نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور انہیں مختلف لالچ دے کر انتشار کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پشتونوں پر حملے کا بیانیہ سراسر غلط ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ اربوں روپے کے ڈیم منصوبوں کے باوجود عوام کو پانی کی سہولت میسر نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔
اختیار ولی نے کہا کہ ہم خود پشتون ہیں اور کسی سے پشتون ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، پشتون کارڈ استعمال کرکے آگ سے کھیلنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔













