پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کی جانب سے پارٹی کے حالیہ احتجاجی لانگ مارچ میں شریک نہ ہونے والے رہنماؤں پر تنقید کے بعد ایک بار پھر سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے احتجاجی کردار پر سوال اٹھنے لگا ہے۔
جنید اکبر نے کسی رہنما کا نام لیے بغیر کارکنوں کو ایسی قیادت پر نظر رکھنے اور آئندہ انہیں پارٹی ٹکٹ دینے کی مخالفت کی ہدایت کی، جبکہ اسی روز علی امین گنڈاپور کا قافلہ ڈیرہ اسماعیل خان سے روانہ ہو کر یارک ٹول پلازہ سے واپس آگیا۔
یارک ٹول پلازہ سے واپسی، لکی مروت کیوں نہیں پہنچے؟
4 اکتوبر 2026 کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ لکی مروت کے گنڈی چوک سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں روانہ ہوا، جبکہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے الگ قافلہ مارچ میں شامل ہونے کے لیے نکلا۔
علی امین گنڈاپور کے مطابق یارک ٹول پلازہ پر پولیس نے انہیں دفعہ 144 کے تحت اگے جانے سے روک دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قافلہ کئی گھنٹوں تک روکا گیا لیکن پارٹی قیادت اور پارٹی میں موجود پالیسی سازوں کی جانب سے کوئی نیا لائحہ عمل نہ ملنے اور علاقے کو سیکیورٹی کے لحاظ سے غیر محفوظ سمجھتے ہوئے واپس جانے کا فیصلہ کرلیا۔
یعنی اس مرتبہ بھی علی امین گنڈاپور لکی مروت میں مرکزی قافلے میں شامل ہونے کے بجائے یارک سے واپس ڈیرہ اسماعیل خان چلے گئے۔
کیا یہ پہلی بار ہوا ہے؟
علی امین گنڈاپور کے احتجاجی مارچوں کا ماضی دیکھیں تو ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2024 کے واقعات میں بھی ان کا کردار مختلف مرحلوں پر زیر بحث رہا۔
8 ستمبر 2024 اور سنگجانی:
8 ستمبر 2024 کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے سنگجانی میں پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا جس میں علی امین گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ پہنچا۔ علی امین گنڈاپور نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت کو 2 ہفتوں کا الٹی میٹم دیا اور واپس چلے گئے۔
اکتوبر 2024، ڈی چوک سے کے پی ہاؤس
اکتوبر 2024 کا احتجاج اس حوالے سے مختلف تھا۔ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پی ٹی آئی کارکن رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے اور ڈی چوک تک جانے کا دعویٰ کیا۔
اس کے بعد علی امین گنڈاپور کے پی ہاؤس پہنچے جہاں اسلام آباد پولیس اور رینجرز کی کارروائی کے دوران وہ کئی گھنٹے منظر عام سے غائب رہے۔ کئی گھنٹوں کے بعد علی امین گنڈا پور اچانک خیبرپختونخوا اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں پہنچے اور بتایا کہ وہ 12 اضلاع کو عبور کرکے پشاور تک پنچے جبکہ ان کی جیب میں پیسے تک نہیں تھے۔
بعد میں یہی 12 اضلاع کو عبور کرنے والا جملہ علی امین گنڈا پور اور پی ٹی ائی کے لیے طعنہ بن گیا کہ کیسے 3 اضلاع کو کراس کرنے کے بجائے علی امین گنڈاپور نے 12 اضلاع عبور کرلیے، کیونکہ اسلام آباد اور پشاور کے درمیان صرف اٹک اور نوشہرہ کے اضلاع آتے ہیں۔
26 نومبر 2024 کو ڈی چوک پہنچنے کے بعد کیا ہوا؟
پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر 2026 کی فائنل احتجاجی کال کا سب سے اہم مرحلہ 26 نومبر 2024 کو سامنے آیا، جب مظاہرین اسلام آباد کے ڈی چوک تک پہنچ گئے۔
اسی رات حکومت نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی شروع کی اور احتجاج اچانک ختم ہوگیا۔ علی امین گنڈاپور اگلے روز مانسہرہ میں منظر عام پر آئے جہاں انہوں نے احتجاج کے اختتام اور اپنی واپسی کی وجوہات بیان کیں۔
اس واقعے میں بھی علی امین گنڈاپور کا کردار اس لیے اہم رہا کہ وہ احتجاجی قافلے کی قیادت کرنے والے مرکزی رہنماؤں میں شامل تھے، لیکن آپریشن کے مرحلے میں ان کی موجودگی اور پھر واپسی پارٹی کے اندر اور باہر بحث کا موضوع بنی۔
ایک ہی سوال، مختلف مواقع
یوں علی امین گنڈاپور کے احتجاجی ریکارڈ میں مختلف مواقع پر مختلف صورتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ ستمبر 2024 میں وہ برہان سے واپس ہوئے، اکتوبر میں ڈی چوک پہنچنے کے بعد کے پی ہاؤس میں موجودگی سامنے آئی، جبکہ بعد ازاں 12 اضلاع سے گزر کر پشاور پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔
نومبر میں ڈی چوک احتجاج کے اختتام کے بعد انہوں نے مانسہرہ میں پریس کانفرنس کی، جبکہ اب اکتوبر 2026 میں یارک ٹول پلازہ سے قافلے کی واپسی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
یہی تسلسل اب اس سوال کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے کہ جنید اکبر کی تنقید کا اشارہ کس طرف تھا اور کیا پارٹی قیادت مستقبل میں احتجاجی سرگرمیوں میں رہنماؤں کی موجودگی کو ٹکٹ دینے کے فیصلوں سے جوڑنے جا رہی ہے؟
علی امین گنڈاپور کی خوبیاں
پارٹی میں موجود علی امین گنڈا پور کے ناقدین بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ہر احتجاج کے دوران انہوں نے سب سے زیادہ انتظامی فنڈز کی ادائیگی کی اور سب سے بڑا جلوس بھی ڈی آئی خان سے انہوں نے نکالا۔
ان کے دور میں کبھی بھی احتجاج کے لیے چندہ مہم نہیں چلائی گئی، پارٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان اسمبلی کے مطابق ہر احتجاج کے لیے وہ ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کے لیے پارٹی رہنماؤں اور مختلف ونگز کو باقاعدگی سے ادائیگیاں کرتے رہے۔
جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو پشاور کے شیر شاہ سوری پل کے نیچے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، بیشتر رہنماؤں کے مطابق جنید اکبر کا حالیہ بیان بھی دونوں شخصیات کے دوران سابقہ عناد کا نتیجہ ہے۔












