وزیراعظم کا قومی شاہراہوں کی تعمیر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے کرنے کی حکمت عملی بنانے کا حکم

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ قومی شاہراہوں، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کرنے کے حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے امور پر ایک جائزہ اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

مزید پڑھیں: این ایچ اے کا قومی شاہراہوں کے اطراف تجارتی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں قومی شاہراہوں، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ آمدورفت کے ذرائع میں بہتری کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت ملک کے دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں سے جوڑنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ ان علاقوں کی عوام کو بہترین سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور یہاں کاروبار اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکیں۔

وزیراعظم نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تمام جاری منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ قومی شاہراہوں، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کی تعمیر کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کرنے کے حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے۔

اجلاس کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پچھلے مالی سال میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ریونیو 109 بلین روپے سے بڑھ کر 130 بلین روپے ہو گیا اور اس مالی سال یہ ریونیو 160 بلین روپے ہونے کی توقع ہے۔

این ایچ اے کے کئی منصوبوں کی فنڈنگ این ایچ اے خود اپنے ریونیو سے کر رہا ہے۔ ان منصوبوں میں سیالکوٹ-کھاریاں موٹر وے ایم-12، کھاریاں راولپنڈی موٹر وے ایم 13، پشاور ناردرن بائی پاس، جگلوٹ اسکردو روڈ (ایس-1) کی تعمیر نو، پنڈی بھٹیاں فیصل آباد موٹر وے (ایم-4) کی اپ گریڈیشن، این 5 ملتان لودھراں اپ گریڈیشن، لیہ تونسہ پل کی اپروچ روڈز کی تعمیر کے منصوبے نمایاں ہیں۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ایکسپریس وے (این-25) پر کام تیزی سے جاری ہے۔

اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ اس وقت 16 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور جلد ہی افتتاح کے لیے بالکل تیار ہوں گے۔

ان منصوبوں میں جی ٹی روڈ (این-5) ٹی چوک اسلام آباد سے بانٹھ کی اپ گریڈیشن، جی ٹی روڈ (این-5) اسلام آباد چونگی نمبر 26 انٹرچینج کی ری ماڈلنگ، مرگلہ ایونیو ایکسٹینشن (جی ٹی روڈ (این-5) تا موٹر وے ایم-1)، پنڈی بھٹیاں-فیصل آباد (ایم-4) کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس، پنڈی گھیب-جنڈ روڈ، ملتان-سکھر موٹر وے (ایم-5) پر بھونگ انٹرچینج، نوکنڈی-ماشخیل روڈ کی تعمیر، اولڈ بنوں روڈ کو دو رویہ کرنے، انڈس ہائی وے (این-55) سان-سیہون سیکشن اور اسی شاہراہ کا رتوڈیرو-شکارپور سیکشن کو دو رویہ کرنے، انڈس ہائی وے (این-55) پٹارو-سیہون سیکشن پر ایڈیشنل کیرج وے کے منصوبے شامل ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کئی منصوبوں کو جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا جن میں کھاریاں راولپنڈی موٹر وے (ایم-13)، سکھر حیدراباد موٹر وے (ایم-6)، جی ٹی روڈ (این-5) نوشہرہ-پشاور کی بحالی، جی ٹی روڈ (این-5) راولپنڈی حسن ابدال کی تعمیر نو، قومی شاہراہ (این-5) مورو-ہالہ کی بحالی، قومی شاہراہ (این-5) رانی پور تا روہڑی کی تعمیر نو کے منصوبے شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سیالکوٹ-کھاریاں موٹر وے (ایم-12) اور کھاریاں راولپنڈی موٹر وے (ایم-13) پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سکھ مذہب کے مقدس مقامات کو آپس میں جوڑنے کے حوالے سے گورو نانک ایکسپریس وے کا منصوبہ زیر غور ہے، جو کرتار پور اور ننکانہ صاحب کو آپس میں ملائے گا۔

مزید پڑھیں: موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی حد رفتار میں تبدیلی کر دی گئی

مزید برآں مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ایکسپریس وے کا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے، جس کی بدولت مانسہرہ اور چلاس کے درمیان فاصلہ 146 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ چیمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp