امریکا میں سزائے موت کے التوا کے ایک تاریخ ساز واقعے میں 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک مہلک انجیکشن لگائے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی ہیں اور اب اسپتال میں ہوش میں آ کر بات چیت کر رہی ہیں۔
امریکی ریاست ٹینی سی میں سزائے موت کی منتظر 50 سالہ خاتون قیدی کرسٹا پائیک کو گزشتہ ہفتے زہریلا انجیکشن دے کر سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، جو ناکام ہو گئی۔
منگل کے روز ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کرسٹا پائیک کو اسپتال میں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگے ہوئے حالت میں شدید طبی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے، جہاں وہ اب ہوش میں ہیں اور بات چیت کر رہی ہیں۔
کرسٹا پائیک کو 1995 میں کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ گزشتہ بدھ کو ٹینی سی میں انہیں زہریلے کیمیکل کے 2 انجیکشن لگائے گئے، تاہم وہ سزائے موت سے بچ گئیں۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی عملے نے ان کے جسم سے زہریلے کیمیکلز صاف کیے، اور وہ کئی دنوں تک بے ہوش رہیں۔

فورڈہم لا اسکول کی پروفیسر اور ماہرِ جرمیات ڈیبرا ڈینو نے بی بی سی کو بتایا کہ کرسٹا پائیک کا اس طرح سزائے موت سے بچ نکلنا اور زندگی کی طرف واپسی حیران کن واقعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں اس سے قبل 7 ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں قیدی سزائے موت سے بچے، لیکن ان تمام کیسز میں عملہ قیدیوں کی رگوں میں زہر منتقل کرنے میں ہی ناکام رہا تھا۔ کرسٹا پائیک دنیا کی واحد قیدی ہیں جن کے جسم میں زہریلا مادّہ داخل کیے جانے کے باوجود وہ زندہ بچ گئی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق کرسٹا پائیک کو کیمیکل ’پینٹو باربیٹل‘ کی 2 خوراکیں دی گئی تھیں جو عام حالات میں کسی بھی انسان کی فوری موت کے لیے کافی ہوتی ہیں۔
دفاعی ٹیم کے ماہرِ بے ہوشی (Anaesthesiologist) ڈاکٹر جوئل زیوٹ کا کہنا ہے کہ شاید زہریلا کیمیکل براہِ راست خون کی رگوں میں شامل ہونے کے بجائے جلد کے نیچے موجود خلیوں میں پھیل گیا جس کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی اور تاخیر کے باعث دماغی آسیب کے خطرات اب بھی موجود ہیں اور ان کی مکمل صحت یابی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔
اس واقعے کے بعد حکام کو شدید سبکی کا سامنا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کیا کرسٹا پائیک کو دوبارہ سزائے موت دینے کی کوشش کی جائے گی یا نہیں۔
اس بڑی غلطی کے بعد ریاست ٹینی سی کے گورنر بل لی نے رواں سال کے لیے تمام سزائے موت معطل کر دی ہیں، جبکہ ریاست کے محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کی قانونی ٹیم نے عملدرآمد سے قبل ہی متنبہ کیا تھا کہ ان کی جسمانی ساخت اور خون جمنے کی بیماری (Thrombocytosis) کی وجہ سے زہریلے انجیکشن کا عمل شدید دردناک اور ناکام ہو سکتا ہے۔ منگل کو وکلا نے بتایا کہ اس کوشش کے نتیجے میں ان کے بازوؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
‘ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر’ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2022 میں امریکا بھر میں سزائے موت کے ایک تہائی سے زائد کیسز انتظامی غلطیوں اور رگوں کی عدم دستیابی کے باعث مسائل کا شکار ہوئے تھے، تاہم کسی قیدی کے جسم میں زہر اترنے کے بعد اس طرح زندہ بچ جانے کا یہ منفرد واقعہ ہے۔













