پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی، امن و امان، کرپشن، ترقی اور گورننس کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے صرف سیاسی سرگرمیوں اور عمران خان کے بیانیے پر زور دیا جا رہا ہے، جس کا نقصان بالآخر خیبر پختونخوا کے عوام اور نوجوانوں کو ہو رہا ہے۔
پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت مختلف اضلاع کے دورے کر رہی ہے، پشاور سے آبائی حلقے میں ڈیرے ڈالنے کے بعد چارسدہ اور باجوڑ جانے کا پروگرام ہے، جبکہ دیگر علاقوں کے دورے بھی کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں پی ٹی آئی کی قیادت پہنچ رہی ہے وہاں دوسری سیاسی جماعتیں جلسہ نہیں کرسکتیں، احتجاج نہیں کرسکتیں اور کوئی اجتماع بھی نہیں کرسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال ہونا چاہیے کہ اس صورتحال کا نقصان کس کو ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی حکومت لانگ مارچ میں مصروف، خیبرپختونخوا کے بنیادی مسائل کون حل کرےگا؟
محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال موجود ہے، گورننس کے مسائل ہیں اور کرپشن بھی ہو رہی ہے، لیکن ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے اور ان کے ذہنوں میں نفرتیں اور اختلافات پیدا کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج صوبے کی حالت سب کے سامنے ہے، روزگار اور ترقی ختم ہو رہی ہے، روزانہ جنازے اٹھ رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے پی ٹی آئی کے لوگوں پر اعتماد کرکے انہیں منتخب کیا، لیکن وہ اس کے باوجود ڈیلیور نہیں کر پا رہے۔
پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی یا حکومت صوبے میں کسی سیاسی مداخلت یا تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے خیال میں حکومت صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج چاہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں چاہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی صوبے سے دہشتگردی ختم کرنے، ترقی لانے اور کرپشن کے خاتمے کی کوشش کرے اور گورننس کے مسائل پر توجہ دے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: منزل اسلام آباد یا خیبر پختونخوا؟ لیڈروں کے متضاد روٹ پلان سے کارکنان کنفیوز
محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ ماضی میں منتخب نمائندے سائیکل پر اسمبلی آتے تھے اور آج کروڑ پتی اور ارب پتی بن کر لینڈ کروزر میں گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو صوبے میں جہاں جانا ہو، دن ہو یا رات، جانے کی آزادی ہے، جبکہ دوسری سیاسی جماعتوں کو وہ سیاسی سرگرمیوں کا موقع نہیں دے رہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت کا خیال ہے کہ پورے صوبے کا دورہ کرتے رہنے سے مسائل حل ہوجائیں گے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کا نقصان کس کو ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا نقصان باہر کے لوگوں کو نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام، نوجوانوں اور صوبے کے لوگوں کو ہو رہا ہے۔
محمد علی شاہ باچا نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے میں دہشتگردی، امن و امان، ترقی، گورننس اور کرپشن جیسے مسائل پر توجہ دی جائے۔











