خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سیکیورٹی نظام کی بہتری کے لیے فراہم کیے گئے تقریباً 800 ارب روپے کے فنڈز کے استعمال اور نتائج کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا 2001 سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس لیے صوبے کو فراہم کیے جانے والے فنڈز اور ان کے استعمال کا جائزہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟
مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے اور سیکیورٹی نظام کو بہتر بنانے کے لیے فراہم کردہ رقوم کے استعمال، ان سے متعلق منصوبوں اور حاصل ہونے والے نتائج کی تفصیلات عام کی جائیں۔
اس ضمن میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ دستیاب وسائل کے باوجود پولیس کی استعدادِ کار، تربیت، جدید آلات اور عملی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کا مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کی بحالی اور صوبے میں آئینی نظام کی مؤثر کارکردگی یقینی بنانا ہے۔











