سپریم کورٹ نے راولپنڈی کے تھانہ چونترہ میں درج قتل کے مقدمے میں نامزد 4 ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
ملزمان علی عمران، وسیم اعجاز، رومن عمران اور وحید پر چونترہ کے علاقے میں ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام ہے۔
مقدمے میں اراضی پر قبضے اور قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ یہ کارروائی ایک رکنِ صوبائی اسمبلی کی ایما پر کی گئی۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کی جانب سے ضمانت کا غلط استعمال کرنے کا الزام نہیں لگایا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو ہائیکورٹ نے ضمانتیں دی تھیں اور پرائیویٹ کمپلینٹ کو بھی مرکزی مقدمے کے ساتھ سنا جا رہا ہے۔
وکیلِ مدعی نے درخواست واپس لینے کی استدعا کی، تاہم جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اتنی بحث کے بعد کیس واپس نہیں لیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں:جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا
عدالت نے ضمانت منسوخی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 6 ماہ میں مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔











