خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد معطل شدہ صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباداللہ کی 4 ماہ قبل کی گئی پیش گوئی ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بعد موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے ان کی پیش گوئی بھی موجودہ حالات کے تناظر میں درست ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا کی 11 رکنی مشاورتی کونسل میں کون کون شامل، اور پیشہ ورانہ قابلیت کیا ہے؟
24 جون 2026 کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عباداللہ نے کہا تھا کہ بجٹ کی منظوری پر نہ حکومت خوش ہے اور نہ ہی اپوزیشن مطمئن ہے۔
قائد حزب اختلاف نے اس موقع پر پیش گوئی کی تھی کہ سہیل آفریدی کا یہ پہلا اور آخری بجٹ ثابت ہوگا۔ اب صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور اسمبلی کی معطلی کے بعد ان کا یہ بیان ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اس سے قبل ڈاکٹر عباداللہ نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی منظوری پر بھی یہ پیش گوئی کی تھی کہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت اپنا آئندہ بجٹ پیش نہیں کر سکے گی۔ بعد ازاں علی امین گنڈاپور کی وزارتِ اعلیٰ کے خاتمے کے بعد ان کی یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، کوہاٹ میں شہریوں کا جشن، ’یوم نجات‘ پر مٹھائیاں تقسیم
علی امین گنڈاپور کے بعد سہیل آفریدی، کیا ڈاکٹر عباداللہ کی پیش گوئیاں خیبرپختونخوا کی سیاست کا نیا موضوع بن گئی ہیں؟ یہ سوال اب صوبے کی سیاسی بحث میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔











