رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد اور مہنگائی 9.9 فیصد رہنے کا امکان

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال 27-2026 کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح مزید ایک سال تک دہرے ہندسے کے قریب رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب عالمی معیشت کی شرح نمو 2027 میں بڑھ کر 3.4 فیصد ہونے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے آغاز پر جاری کردہ اپنی اہم رپورٹ ’ورلڈ اکنامک آؤٹ لک‘ میں پاکستان کے معاشی اشاریوں سے متعلق نئی پیشگوئیاں پیش کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں جاری کھاتے میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے برابر سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں عمومی مہنگائی کی شرح گزشتہ سال کے 7.1 فیصد سے نمایاں طور پر بڑھ کر رواں مالی سال میں 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کم ہونے کی پیش گوئی

آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح کم ہوکر 6.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 6.9 فیصد اور اس سے ایک سال قبل 7.1 فیصد تھی۔

تاہم گزشتہ ہفتے پاکستان کی معاشی صورتحال کا جائزہ مکمل کرنے والے عالمی مالیاتی ادارے نے یہ وضاحت نہیں کی کہ بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی میں اضافے اور جاری کھاتے کے خسارے میں وسعت کی پیش گوئیوں کے باوجود بے روزگاری کی شرح میں کمی کس بنیاد پر متوقع ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی ترقی کی پیش گوئی حکومت کے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 4 فیصد ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔ اسی طرح یہ عالمی بینک کی گزشتہ ماہ جاری کردہ 3.8 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی سے بھی کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی متوقع 3.5 فیصد معاشی شرح نمو گزشتہ سال ریکارڈ کی گئی 3.6 فیصد شرح نمو سے قدرے کم، تاہم مالی سال 2025 کی 3.2 فیصد شرح نمو سے زیادہ ہے۔

عالمی معیشت کی شرح نمو 2027 میں بہتر ہونے کا امکان

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود عالمی معاشی سرگرمیوں نے غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔

ادارے کے مطابق 2026 میں عالمی معاشی شرح نمو کم ہوکر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم 2027 میں یہ بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اسی طرح عالمی سطح پر عمومی مہنگائی کی شرح 2026 میں نمایاں اضافے کے ساتھ 4.7 فیصد تک پہنچنے اور 2027 میں کم ہوکر 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کی مشکلات کے باوجود مضبوطی کی وجوہات میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی، معاشی تحفظ فراہم کرنے والے وسائل اور مختلف ممالک کی جانب سے اختیار کی گئی ایسی حکمت عملیوں کو قرار دیا ہے جنہوں نے جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے نقصانات کو محدود کرنے میں مدد دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 7 سال سے بھی کم عرصے کے دوران عالمی معیشت کو غیر معمولی واقعات کے ایک سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

ان واقعات میں کورونا وبا، اس کے نتیجے میں عالمی رسد کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں، توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں تیز اضافہ، تجارتی پابندیوں اور عالمی تجارتی تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق ان تمام عوامل نے گھرانوں، کاروباری اداروں، مالیاتی منڈیوں اور حکومتوں کی معاشی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت کو سخت آزمائش میں ڈالا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں سے ہر بڑا واقعہ انفرادی طور پر بھی غیر متوقع سمجھا جاتا، لیکن اتنے مختصر عرصے میں ان تمام واقعات کا یکجا ہونا اس سے بھی زیادہ غیر معمولی تھا۔ اس کے باوجود عالمی معیشت ان شدید جھٹکوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی۔

آئی ایم ایف کے مطابق محنت کی عالمی منڈیاں توقعات سے زیادہ مضبوط رہیں، جبکہ مالیاتی نظام نے بھی بڑے معاشی جھٹکوں اور گزشتہ نصف صدی کے دوران شرح سود میں ہونے والے شدید ترین اضافے کا مجموعی طور پر مقابلہ کیا۔

بہت سی معیشتوں میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آچکی ہے، تاہم بعض ممالک میں مہنگائی کا دباؤ اب بھی برقرار ہے۔

پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو زیادہ خطرات

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک، جن کے ٹیکنالوجی کی عالمی پیداواری زنجیر سے روابط محدود ہیں، انہیں سب سے زیادہ مشکل معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق عالمی معیشت کو مستحکم رکھنے میں مدد دینے والی مختلف معاشی گنجائشیں اور حفاظتی اقدامات لامحدود نہیں ہیں، جبکہ مستقبل میں معاشی خطرات کا جھکاؤ منفی سمت میں زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگوں اور تنازعات میں مزید شدت، مصنوعی ذہانت سے وابستہ توقعات پر نظرثانی، تجارتی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ اور مالیاتی کمزوریاں عالمی معاشی ترقی کو متاثر کرسکتی ہیں۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھنے، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافے یا جغرافیائی و سیاسی اور تجارتی کشیدگی میں مستقل کمی سے عالمی معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے رکن ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی نظام کو اس انداز میں بہتر بنائیں کہ غیر متوقع معاشی جھٹکوں سے مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکے۔

ادارے کے مطابق حکومتوں کو محصولات میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے مستقبل کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مالیاتی گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے کے بحران کے دوران حکومتوں کو قیمتوں کے ذریعے منڈی کو ملنے والے معاشی اشاروں کو برقرار رکھنا چاہیے اور بنیادی طور پر سب سے زیادہ متاثرہ اور کمزور طبقات کو عارضی اور ہدفی مالی معاونت فراہم کرنی چاہیے۔

عالمی معاشی ترقی کے فوائد تمام ممالک کو یکساں نہیں مل رہے

آئی ایم ایف کے مطابق عالمی سطح پر مجموعی معاشی شرح نمو بظاہر مستحکم دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کے پیچھے مختلف معیشتوں کے درمیان ترقی کی رفتار میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔

وہ ممالک جو جنگ کے اثرات سے براہ راست کم متاثر ہوئے ہیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں، ان کی معاشی سرگرمیاں مستحکم ہیں یا مزید بہتر ہورہی ہیں۔

اسی طرح جنگ سے براہ راست متاثرہ علاقوں سے باہر موجود توانائی برآمد کرنے والے ممالک کو سازگار تجارتی حالات سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اس کے برعکس توانائی درآمد کرنے والے وہ ممالک جن کے ٹیکنالوجی کی عالمی پیداواری زنجیر سے روابط محدود ہیں، انہیں زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

ان ممالک کو درآمدی اخراجات میں اضافے، شرح مبادلہ پر دباؤ، عوام کی حقیقی آمدنی میں کمی، محدود مالیاتی وسائل اور طلب کو سہارا دینے والے متبادل عوامل کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق کم آمدنی والے اور معاشی طور پر کمزور بہت سے ممالک اسی زمرے میں شامل ہیں، جس سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ حالیہ عالمی معاشی جھٹکے مختلف ممالک کے درمیان اور ان کے اندر آمدنی کے تفاوت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔

عالمی تجارت کی رفتار میں کمی کا امکان

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ 2026 میں عالمی تجارت کے حجم میں اضافے کی رفتار سست ہوگی، جبکہ 2027 میں اس کے مستحکم ہونے کا امکان ہے۔

ادارے کے مطابق اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں درآمدی محصولات کا دباؤ، پیداواری زنجیروں میں تبدیلیاں اور ٹیکنالوجی سے متعلق تجارت کی مسلسل مضبوطی شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درمیانی مدت کے دوران عالمی معاشی عدم توازن میں صرف معمولی کمی متوقع ہے۔

اس کی وجوہات میں بڑے مالیاتی خسارے، ملکی معیشتوں میں طلب اور پیداوار کے توازن کو بہتر بنانے کے محدود اقدامات، ٹیکنالوجی کی بنیاد پر سرمائے کی عالمی نقل و حرکت اور بڑی معیشتوں میں طلب کی مختلف نوعیت شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے تحت یہ عوامل مختلف ممالک کے بیرونی کھاتوں میں عدم توازن برقرار رکھنے کا سبب بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درمیانی مدت کے دوران عالمی معاشی ترقی کے امکانات تاریخی معیار کے مقابلے میں کمزور ہیں، جبکہ مختلف ممالک میں ترقی کی رفتار بھی یکساں نہیں ہوگی۔

اس عدم یکسانیت کی ایک وجہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف ممالک کی تیاری اور ان کے توانائی کے ذرائع کی مضبوطی میں فرق ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سے مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معاشی خطرات میں منفی عوامل زیادہ نمایاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں طویل تعطل یا تنازعات میں مزید شدت کی صورت میں توانائی اور خوراک کی قیمتیں بلند اور غیر مستحکم رہ سکتی ہیں۔

اس صورتحال سے مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے، مالیاتی اور بیرونی کھاتوں کا توازن خراب ہوسکتا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔

ادارے نے خبردار کیا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں مزید رکاوٹیں، سائبر حملے یا شدید موسمی واقعات ان منفی اثرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

حکومت کو معاشی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود حکومت کو رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت رواں مالی سال کے دوران 5 سے 6 سرکاری اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم حاصل ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ پاکستان توانائی کی درآمدات، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور مالی معاونت کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp