اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ اسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے حکام سے واقعے کا مکمل ریکارڈ اور تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور وزیراعظم آفس سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب بھی طلب کرلیا ہے۔
منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے دی جورسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے گائنی وارڈ اور خصوصی نگہداشت مرکز میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ سنگین غفلت اور حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کے باعث پیش آیا، جبکہ مبینہ طور پر چوری سے بچاؤ کے لیے وارڈ کو بند کردیا گیا تھا اور وہاں عملہ بھی موجود نہیں تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں 14 بچوں کی ہلاکت کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں غفلت کی نشاندہی کی جاچکی ہے، اس لیے ذمہ داروں کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ وہ تمام رپورٹس طلب کرنے کے ساتھ شواہد کا بھی جائزہ لیں گے۔ اگر کسی قسم کی غفلت سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے گا۔
عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ واقعے کی تفصیلات کے بجائے مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر دلائل دیں۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اس معاملے سے متعلق بہت سے شواہد جمع کر رکھے ہیں، تاہم ایف آئی آر درج نہ ہونے کی صورت میں وہ یہ شواہد کہاں پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات کب درج کیے جا رہے ہیں؟، طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس آف پیس نے ان کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کردی تھی کہ اس معاملے سے متعلق دیگر درخواستیں پہلے ہی ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرنے کے لیے رجوع نہیں کیا، حالانکہ واقعے میں بچوں کی ہلاکت پر ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 28 اگست کو پمز کے 8 حکام کے خلاف آتشزدگی سے بچاؤ کے انتظامات میں مبینہ غفلت کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ حکام کو حفاظتی انتظامات میں خامیوں سے آگاہ کیے جانے کے باوجود بروقت اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے، حالانکہ مناسب اقدامات کے ذریعے اس سانحے کو روکا جاسکتا تھا۔
درخواست میں دیگر استدعائیں بھی شامل
آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں متاثرہ خاندانوں کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 323 کے تحت معاوضہ دینے کی ہدایت جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے طبی عملے، بالخصوص ڈاکٹروں کو نجی پریکٹس اور تجارتی طبی مراکز میں کام کرنے سے روکا جائے، جب تک اس حوالے سے باقاعدہ قانون کے تحت اجازت موجود نہ ہو۔
درخواست گزار نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے انتظامی بورڈ میں ڈاکٹر خالق الزمان سمیت متعلقہ افراد کو شامل کرنے، متعلقہ اداروں میں عالمی معیار (آئی ایس او) کے تقاضے پورے کرنے اور آڈیٹر جنرل سے آڈٹ رپورٹس طلب کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔ آڈٹ میں کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو کارروائی کی ہدایت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
درخواست میں سرکاری اسپتالوں کی پرانی اور زائدالمیعاد بجلی کی تاریں تبدیل کرنے، نومولود بچوں کو ماؤں سے الگ تھلگ رکھنے کے عمل کو غیر معقول اور غیر قانونی قرار دینے کی استدعا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے سانحہ پمز میں نومولود کو بچانے والی نرس کی ملاقات، حادثے کی ساری روداد سنادی
مزید برآں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی تعمیر پہلے سے منظور شدہ اسپتال کے نقشے سے تجاوز کے مترادف ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نومولود بچوں کے وارڈز کی ترتیب تبدیل کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ بچوں کو ماؤں کے بستروں کے قریب اور ان کی نظروں کے سامنے رکھا جاسکے۔
درخواست میں عوامی مفاد کی اس قانونی کارروائی پر آنے والے اخراجات کا معاوضہ بھی طلب کیا گیا ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ، وزارت قومی صحت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، اسلام آباد کے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پمز انتظامیہ، اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کا درخواست مسترد کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو مکمل ریکارڈ، تحقیقاتی رپورٹس اور شواہد آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔











