امریکی ریاست کیلیفورنیا نے جنگلات میں لگنے والی آگ کا بروقت پتا لگانے اور اسے پھیلنے سے پہلے قابو کرنے کے لیے جدید کیمروں اور مصنوعی ذہانت سے مدد لینا شروع کردی ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار 300 دور دراز کیمرے مسلسل آگ کے خطرے سے دوچار علاقوں کی نگرانی کررہے ہیں۔
2023 نیویارک ٹائمز کے مطابق میں پیٹا پکسل نے کیلیفورنیا میں ‘الرٹ کیلیفورنیا’ نامی کیمروں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے بارے میں رپورٹ کیا تھا، جس کا مقصد جنگلاتی آگ کی فوری نشاندہی کرکے فائر فائٹرز کو آگ پھیلنے اور تباہ کن صورت اختیار کرنے سے پہلے اسے قابو کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاس اینجلس نئی آگ کی لپیٹ میں، 31 ہزار افراد کو انخلا کا حکم
گزشتہ 3 سال کے دوران یہ نیٹ ورک مزید وسیع ہوا ہے اور اب کیلیفورنیا آگ کا جلد پتا لگانے کے لیے خلا میں نصب کیمروں سے بھی مدد لے رہا ہے۔
فائر فائٹرز کیلیفورنیا کے مختلف علاقوں میں نئے کیمرے نصب کررہے ہیں۔ اسی سلسلے میں 41 سالہ کولبی نکلسن نے 3 دیگر فائر فائٹرز کے ہمراہ وادی ناپا میں انگوروں کے باغات اور چھوٹے قصبوں سے تقریباً ایک ہزار 500 فٹ بلندی پر12 فٹ اونچے تپائی نما اسٹینڈ پر2 کیمرے نصب کیے۔
2023 میں اس نیٹ ورک میں تقریباً 1,000 کیمرے شامل تھے، جن کی تعداد اب بڑھ کر تقریباً 1,300 ہوگئی ہے۔ ان کیمروں کی لائیو ویڈیو کوئی بھی شخص گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر دیکھ سکتا ہے۔
View this post on Instagram
دور دراز مقامات پر نصب یہ کیمرے اکثر کسی آفت کے ابتدائی مراحل کی واضح اور فوری تصاویر فراہم کرتے ہیں۔ کئی مواقع پر کیمرے اور ان سے منسلک مصنوعی ذہانت کا نظام حکام کو آگ لگنے کی اطلاع اس وقت دے دیتے ہیں جب فائر بریگیڈ کے ڈسپیچ مرکز میں کسی شہری کی پہلی کال بھی موصول نہیں ہوئی ہوتی۔
ناپا کاؤنٹی فائر ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی چیف جے سی گرین برگ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اس نظام نے امدادی کارروائیوں کا انداز بدل دیا ہے، کیونکہ اب حکام کو فوری طور پر صورتحال دیکھنے اور کارروائی سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے ضروری معلومات مل جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فائربریگیڈ حکام لاس اینجلس آگ پر بے بسی کی تصویر بن گئے
تاہم گزشتہ سال ایٹن اور پیلیسیڈز میں لگنے والی تباہ کن آگ کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف معلومات کی دستیابی ہر صورت میں تباہی کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود کئی دوسرے واقعات میں الرٹ کیلیفورنیا کے کیمروں نے آگ کو قابو کرنے اور بڑے پیمانے پر تباہی کے درمیان فرق پیدا کیا ہے، جبکہ بعض حالات میں فوری اطلاع انسانی جانیں بچانے میں بھی اہم ثابت ہوئی ہے۔
الرٹ کیلیفورنیا کے مرکزی تحقیق کار اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے پروفیسر ڈاکٹر نیل ڈرسکول کا کہنا ہے کہ کیمروں کے اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا ہدف کیمروں کی تعداد بڑھا کر تقریباً 1,800 کرنا اور ان علاقوں میں موجود خلا کو پُر کرنا ہے جہاں ابھی نگرانی کا مناسب انتظام نہیں۔
ہر تنصیب میں 2 کیمرے لگائے جاتے ہیں تاکہ ایک کے ناکارہ ہونے کی صورت میں دوسرا کام کرسکے، جبکہ دونوں کیمروں کی صلاحیتیں بھی قدرے مختلف ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک کیمرہ رات کے وقت یا دھوئیں کے درمیان بہتر منظر دکھا سکتا ہے، جبکہ دوسرا زیادہ واضح اور بلند معیار کی تصاویر لینے کے ساتھ دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔










