وفاقی آئینی عدالت نے خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے حق میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کی اپیل مسترد کردی۔
مزید پڑھیں:جسٹس حسن اظہر رضوی نے وفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ خاتون ٹیچر نے پی ایچ ڈی کے بعد یونیورسٹی میں 3 سال خدمات انجام دیں، لیکن مدت پوری ہونے کے بعد بھی یونیورسٹی انہیں تنگ کر رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب خاتون کی رخصت کی درخواستیں یونیورسٹی نے خود منظور کی تھیں تو اب ان رخصتوں کو کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ رخصت منظور کرنے والے ذمہ داران کے خلاف یونیورسٹی نے کیا کارروائی کی۔
یونیورسٹی کے وکیل رحمان اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے خاتون ٹیچر کو پی ایچ ڈی کے لیے 56 لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی تھی اور انہیں 3 سال تک یونیورسٹی میں خدمات انجام دینا تھیں۔ وکیل کے مطابق خاتون ٹیچر اس عرصے کے دوران 196 دن رخصت پر رہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ خاتون ٹیچر نے استعفیٰ کیوں دیا اور جب سرکاری رقم خرچ کرکے انہیں پی ایچ ڈی کرائی گئی تو اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی پر انہیں منتخب کرنے کے بجائے باہر سے امیدوار کیوں بھرتی کیا گیا۔
مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی اپیل منظور کرلی، انکوائری بند کرنے کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے یونیورسٹی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے حق میں پہلے سے دیا گیا فیصلہ برقرار رکھا۔










