امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے میں عارضی تعطل کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے کیف کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کبھی معطل نہیں کی۔
ان کا یہ بیان یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ امریکا نے مختصر وقت کے لیے معلومات کا تبادلہ روک دیا تھا، تاہم بعد میں یہ سلسلہ بحال کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، زیلنسکی نے اتوار کو امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ میں تعطل آیا تھا، تاہم بعد میں یہ رکاوٹ دور کر دی گئی۔
انہوں نے اس سلسلے کی بحالی پر امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب معلومات کا تبادلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔
Reporter: Zelensky said in an interview the U.S. had paused some intelligence sharing earlier this week.
Rubio: I don't know where he's getting these things from or why he's saying these things to the press. There's been no pause.
Zelensky should be focused on bringing an end… pic.twitter.com/JWu7GE0auH
— Tabz (@TabzLIVE) October 19, 2026
تاہم، ازبکستان کے دورے کے دوران پیر کی صبح سمرقند میں تاریخی ریگستان اسکوائر کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی تعطل نہیں آیا تھا۔
روبیو نے زیلنسکی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ یوکرینی صدر یہ باتیں کہاں سے حاصل کر رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے اس طرح کے بیانات کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر یوکرینی صدر سے وضاحت طلب کریں۔
مزید پڑھیں: امریکا یوکرین کے معاملے پر امن مذاکرات کے لیے حقیقی کوشش کرے، چین
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ زیلنسکی اور دیگر متعلقہ فریقوں کی توجہ جنگ کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن کی بھی بنیادی ترجیح روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران واشنگٹن اور کیف کے درمیان متعدد معاملات پر متضاد بیانات سامنے آئے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔
زیلنسکی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ یوکرین کی جانب سے امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے تیار کردہ اسٹارشیلڈ نظام کے استعمال پر حالیہ پابندیوں کے پیچھے امریکی حکومت کا کردار ہو سکتا ہے۔ یہ نظام روسی ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف دفاع میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے۔
مزید پڑھیں: فوجی امداد کے بدلے ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرین سے قیمتی دھاتوں کا مطالبہ
یوکرین روس کی جانب سے اپنے شہروں پر داغے جانے والے تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی کے لیے امریکی انٹیلیجنس پر انحصار کرتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ واشنگٹن یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب، یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس کے بعض حملے پیشگی انتباہ کے بغیر ہوئے، جس سے یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا انٹیلیجنس معلومات معمول کے مطابق فراہم کی جا رہی تھیں یا نہیں۔
امریکی اور یوکرینی حکام کے متضاد بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کی اصل صورت حال سے متعلق غیر یقینی صورت حال کو مزید بڑھا دیا ہے۔








