سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خلاف مل بیٹھنے کو تیار ہوں تو وزیراعظم آج بھی مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں، رانا ثنااللہ

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہیں کیا جارہا تھا، جبکہ بلوچستان حکومت اس معاملے پر وفاقی حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے مسئلے پر مشترکہ بات چیت کے لیے آمادہ ہوں تو وزیراعظم شہباز شریف آج بھی ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہاکہ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ کیا، تاہم دونوں صوبوں کی حکومتوں کے رویوں میں واضح فرق ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سے جس تعاون کی ضرورت تھی، وہ فراہم نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: مذاکرات کے دروازے بند، پی ٹی آئی مکمل سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی؟

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی متعدد مرتبہ واضح کرچکے تھے کہ وہ صوبے میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے، جبکہ اس کے برعکس بلوچستان حکومت دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاق اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہاکہ دہشتگردی کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب ملک کے تمام طبقات اور سیاسی قوتیں اس معاملے پر ایک مؤقف اختیار کریں۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ نواز شریف نے ماضی میں ان لوگوں سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا جو 126 دن تک دھرنا دیے بیٹھے رہے۔

انہوں نے سینیٹر مولانا عبدالواسع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان سے بات کریں، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو وزیراعظم شہباز شریف آج بھی بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی ہے، جس کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ناگزیر ہے۔

رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اسپیکر کے دفتر جانے پر بھی آمادہ نہیں۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کو وزیراعظم سے ملاقات کی تجویز دی گئی، لیکن انہوں نے جانے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد انہیں کہا گیا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر چلے جائیں، تاہم ان کا جواب تھا کہ وہ اسپیکر کو ہی تسلیم نہیں کرتے۔

رانا ثنااللہ نے ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب پاکستان تحریک انصاف نے اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا تو اس وقت ستمبر کے پہلے ہفتے میں انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا تھا۔

ان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آگاہ کرکے واپس آتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ پاک فوج کے جوان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلسل جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور روزانہ بہادر فوجی اہلکار شہید ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ملاقاتوں کے دوران ایک پورے ادارے کے سربراہ کے خلاف بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ اگر کسی ادارے کے سربراہ کے خلاف تحقیر آمیز بیانیہ اختیار کیا جائے تو قواعد و ضوابط اور قانون کے تحت ملاقاتوں پر پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے حالیہ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات کے مسودے کا جائزہ لیا جائے تو اس میں تمام معاملات طے پاچکے تھے، لیکن تحریک انصاف نے صرف ایک نکتے پر اتفاق کرنے سے انکار کیا، جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون سے متعلق تھا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی

انہوں نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آپ کبھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہاکہ تحریک انصاف کا یہ تیسرا لانگ مارچ تھا اور 20 لاکھ افراد کو لاکر حملہ آور ہونے کی بات خود پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی تھی، حکومت نے ایسا کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp