بھارت میں زندہ شہری خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے لگے

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں ووٹر فہرستوں سے نام خارج ہونے کے بعد زندہ شہریوں کو خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں، 53 سالہ درزی کامتا پرساد کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا گیا، جبکہ بعض متاثرہ ووٹرز کو پرانا اندراج بحال کرانے کے بجائے نئے سرے سے رجسٹریشن کرانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے گئے، جس کے بعد متعدد شہریوں کو اپنے ووٹ کا حق بحال کرانے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے

نئی دہلی کے رہائشی کامتا پرساد کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 35 سال سے ووٹ ڈالتے آرہے ہیں، لیکن اب انہیں اپنی زندگی ثابت کرنے کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں۔ اس کارروائی کے باعث انہیں خاندان کی کفالت کے لیے روزانہ 250 بھارتی روپے کی اجرت بھی چھوڑنا پڑ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں ایک نجی اسکول کے 38 سالہ استاد کمل لال کو بھی ووٹر فہرست میں دوسری جگہ منتقل شدہ ظاہر کردیا گیا، حالانکہ وہ اب بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کے کاغذات یا پانی کا بل نہ ہونے کے باعث ان کا نام خارج کردیا گیا۔ وہ نام کی بحالی کے لیے متعدد درخواستیں جمع کراچکے ہیں۔

ایک اور متاثرہ خاتون ممتا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ان کے خاندان کے نام ووٹر فہرست میں بحال نہ ہوئے تو وہ رعایتی راشن اور دیگر سرکاری فلاحی سہولتوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکام ان کے شوہر کو نئے ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں، حالانکہ وہ پہلے بھی انتخابات میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے

بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراج، وفات پا جانے والے اور دوسری جگہ منتقل ہونے والے افراد سمیت نااہل ووٹرز کے نام نکالے جارہے ہیں۔ کمیشن کے مطابق غلطی سے خارج ہونے والے افراد ضروری دستاویزات جمع کراکے اپنا نام بحال کرانے کے لیے درخواست اور اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کے بعد الیکشن کمیشن نے نئی دہلی سمیت بعض ریاستوں میں ووٹرز کی دوبارہ تصدیق کا حکم دیا ہے، تاہم متاثرہ شہریوں کو نام بحال کرانے کے لیے متعدد درخواستوں، سرکاری سماعتوں اور دستاویزات کی فراہمی کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مائیکروسوفٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کا پیکیج دینے کا فیصلہ کیوں؟

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں