فرانس میں تعلیمی سہولتوں کی خراب صورت حال، اساتذہ کی کمی، مہنگائی اور عوامی خدمات میں گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگئے، تاہم سوشل میڈیا پر پرانی اور غیر متعلقہ ویڈیوز کے ذریعے ان واقعات کو تارکین وطن اور مذہبی تنازعات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس میں مظاہروں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگانے، دکانوں میں لوٹ مار اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات کے نتیجے میں ایک تاریخی ٹاؤن ہال کو جزوی نقصان پہنچا، سیکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور ملک بھر میں تقریباً 1800 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
🚨 HOLY CRAP. French President Macron is OUT OF THE COUNTRY after devastating riots and rebellion by leftists and Islamists
He's facing mass calls to STEP DOWN after ABANDONING his own populace
What a freaking failure!!
"French President Macron is facing backlash over his… pic.twitter.com/0BLweym2HD
— John F. Kennedy Jr Q (@Real_JFK_Jr_) October 21, 2026
رپورٹ کے مطابق طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا بنیادی مقصد اسکولوں کی حالت بہتر بنانا اور مہنگائی میں کمی کا مطالبہ تھا۔ بعد ازاں اساتذہ، والدین، یونیورسٹی طلبہ اور مزدور تنظیمیں بھی اس تحریک میں شامل ہوگئیں۔ عوامی اخراجات کے استعمال پر تحفظات اور گھریلو بجٹ پر بڑھتے دباؤ نے بھی احتجاج کو وسعت دی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی سازشی نظریات کے حامی ایلکس جونز اور برطانوی دائیں بازو کے کارکن ٹومی رابنسن سمیت بعض افراد نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی ویڈیوز شیئر کرکے انہیں تارکین وطن اور مذہبی تنازعات سے جوڑا۔ ان میں بعض ویڈیوز کئی سال پرانی یا موجودہ احتجاج سے غیر متعلق تھیں۔ ایک ویڈیو میں دکھائی گئی جلتی ہوئی بس دراصل 2022 میں جنوبی فرانس کے شہر نیم میں پیش آنے والے واقعے کی تھی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سرکاری عمارتوں پر حملوں، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق فرانس میں احتجاج کی طویل تاریخ ہے۔ 1789 کا انقلابِ فرانس، 1968 کی طلبہ تحریک اور 2018 کی یلو ویسٹ تحریک اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ تاہم موجودہ احتجاج کے دوران تشدد اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات نے تعلیم، مہنگائی اور عوامی خدمات سے متعلق بنیادی مطالبات کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔








