اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت میں اپوزیشن اور طلبہ کے احتجاج کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مظاہرین پر طاقت کے غیر ضروری استعمال کو فوری طور پر روکنے اور واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے 24 آزاد ماہرین نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج کے دوران متعدد مظاہرین زخمی ہوئے، جبکہ بعض نے بدسلوکی کی شکایات بھی کیں۔ ماہرین نے احتجاج اور گرفتاریوں کے دوران جنسی تشدد اور صنفی بنیادوں پر بدسلوکی کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔
20+ independent human rights experts call on Indian 🇮🇳 authorities to respect, protect and fulfil the right to peacefully protest, and ensure justice for human rights violations reported during these and earlier protests.
"This crackdown reflects a broader, troubling pattern.” pic.twitter.com/auK55aIWJo
— United Nations Geneva (@UNGeneva) October 20, 2026
ماہرین کے مطابق پُرامن اجتماعات کے باوجود پولیس نے غیر مسلح طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج سمیت طاقت کا استعمال کیا اور ہزاروں افراد کو احتجاج میں شرکت سے روکا گیا۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال بند کیا جائے، اجتماعات پر عائد عمومی پابندیاں ختم کی جائیں اور بائیومیٹرک معلومات کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کے غلط استعمال اور انٹرنیٹ کی بندش سے گریز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج روکنے کے لیے کریک ڈاؤن، 2 ہزار سے زائد افراد زیرِ حراست
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی، دیگر اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام خارج کیے جانے سے غریبوں، بے گھر افراد اور مسلمانوں سمیت نسلی و مذہبی اقلیتوں کو غیر متناسب طور پر نقصان پہنچا ہے۔
#India: UN experts alarmed by heavy-handed police response to peaceful youth-led demonstrations. “Despite the non-violent nature of the assemblies, law enforcement has deployed force against unarmed students” https://t.co/2IWZzG8BFx pic.twitter.com/6AYK9ny2T2
— UN Special Procedures (@UN_SPExperts) October 20, 2026
حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ فہرستوں سے دوہرے اندراج، وفات پا جانے والے، نقل مکانی کرنے والے اور دیگر نااہل ووٹروں کے نام نکالے جا رہے ہیں، جبکہ غلطی سے خارج ہونے والے افراد اپیل کر سکتے ہیں۔
بھارتی حکومت ماضی میں بھی اقوام متحدہ کی جانب سے ایسی تنقید کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتی رہی ہے۔








