بھارت مظاہرین پر طاقت کے غیر ضروری استعمال سے باز رہے، اقوام متحدہ

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت میں اپوزیشن اور طلبہ کے احتجاج کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مظاہرین پر طاقت کے غیر ضروری استعمال کو فوری طور پر روکنے اور واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے 24  آزاد ماہرین نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج کے دوران متعدد مظاہرین زخمی ہوئے، جبکہ بعض نے بدسلوکی کی شکایات بھی کیں۔ ماہرین نے احتجاج اور گرفتاریوں کے دوران جنسی تشدد اور صنفی بنیادوں پر بدسلوکی کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

ماہرین کے مطابق پُرامن اجتماعات کے باوجود پولیس نے غیر مسلح طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج سمیت طاقت کا استعمال کیا اور ہزاروں افراد کو احتجاج میں شرکت سے روکا گیا۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال بند کیا جائے، اجتماعات پر عائد عمومی پابندیاں ختم کی جائیں اور بائیومیٹرک معلومات کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کے غلط استعمال اور انٹرنیٹ کی بندش سے گریز کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج روکنے کے لیے کریک ڈاؤن، 2 ہزار سے زائد افراد زیرِ حراست

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی، دیگر اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13  کروڑ نام خارج کیے جانے سے غریبوں، بے گھر افراد اور مسلمانوں سمیت نسلی و مذہبی اقلیتوں کو غیر متناسب طور پر نقصان پہنچا ہے۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ فہرستوں سے دوہرے اندراج، وفات پا جانے والے، نقل مکانی کرنے والے اور دیگر نااہل ووٹروں کے نام نکالے جا رہے ہیں، جبکہ غلطی سے خارج ہونے والے افراد اپیل کر سکتے ہیں۔

بھارتی حکومت ماضی میں بھی اقوام متحدہ کی جانب سے ایسی تنقید کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتی رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مائیکروسوفٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کا پیکیج دینے کا فیصلہ کیوں؟

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں