حوثیوں کی عسکری کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ تجارتی جہازوں پر حملے اور علاقائی ممالک کے خلاف میزائل کارروائیاں تنازعے کو یمن کی سرحدوں سے باہر لے جا رہی ہیں۔ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا دعویٰ بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے یا دوسرے ممالک کے شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کا جواز نہیں بن سکتا۔
یمن شدید خانہ جنگی کا شکار ہے۔ حوثی باغی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، ملک کے تقریباً 33 سے 35 فیصد علاقے پر قابض ہیں، جبکہ یمن کی تقریباً 70 فیصد آبادی ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہتی ہے اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
حوثی تحریک کے موجودہ سربراہ عبدالملک بدرالدین الحوثی ہیں، جو 2004 میں اپنے بڑے بھائی حسین الحوثی کی ہلاکت کے بعد تحریک کے سربراہ بنے۔ یمن میں حوثیوں کی حکومت کو ایران کے علاوہ کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا، جبکہ عالمی برادری صدارتی قیادت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتی ہے، جس کی قیادت رشاد العلیمی اور وزیراعظم شائع الزندانی کر رہے ہیں۔
حوثی باغی نہ صرف اپنے ملک اور ہم وطنوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ ان کی سرگرمیاں پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہیں۔ رواں سال ستمبر میں انہوں نے بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملانے والے اہم بحری راستے باب المندب پر قبضہ کر کے عالمی جہاز رانی کے لیے مشکلات پیدا کر دی تھیں۔ تاہم، اکتوبر کے اوائل میں یمنی حکومت نے باغیوں کو پسپا کر کے اس راستے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔
باب المندب خلیجِ عدن کو بحیرۂ احمر سے ملاتا ہے، جبکہ خلیجِ عدن آگے بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند سے جڑی ہوئی ہے۔ شمال کی جانب بحیرۂ احمر نہرِ سویز کے ذریعے بحیرۂ روم سے منسلک ہے۔ اس طرح یہ خطہ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔
انسانی بحران
29 مارچ کو اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) نے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ یمن میں جاری تنازعے، معاشی انحطاط، بے گھری، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور انسانی امداد کے لیے مالی وسائل کی کمی نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2026 میں یمن کے 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے، جبکہ ایک کروڑ 83 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ 52 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 5 سال سے کم عمر 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ملک میں فعال اسپتالوں اور صحت کے مراکز کا تناسب 60 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ ایک کروڑ 44 لاکھ افراد کو صاف پانی، نکاسیٔ آب اور حفظانِ صحت کی سہولتوں کے لیے امداد درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیے حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟
اقوامِ متحدہ نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے 2026 میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے 2.16 ارب ڈالر درکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، انسانی امداد کی فراہمی کے ساتھ بحران کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ، بنیادی سہولتوں کی بحالی اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت بھی ناگزیر ہے۔
یمن کے بحران کی مختصر تاریخ
یمن کا موجودہ بحران 2011 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا، جب اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوئے اور نائب صدر عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔ 2014 میں حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا، جبکہ مارچ 2015 میں ایک فوجی اتحاد نے ہادی حکومت کی حمایت میں کارروائیاں شروع کر دیں۔
یوں یمن کا داخلی سیاسی بحران ایک وسیع خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا۔ علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور ملک کو شدید انسانی و معاشی تباہی سے دوچار کر دیا۔
خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کو خطرات
حوثیوں کی میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت انہیں روایتی فوجی طاقتوں کے مقابلے میں غیر متناسب جنگ لڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ سعودی عرب کے خلاف ان کی سرحد پار کارروائیاں اور 2026 میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی خلیجی ممالک کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
19 اکتوبر 2026 کو یمن کے صوبے شبوا میں ایک سیکیورٹی تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں 58 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یمن میں جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔
ایسی کارروائیاں نہ صرف یمن میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ دیگر خلیجی ممالک کو بھی دفاعی اور فوجی اقدامات پر مجبور کر سکتی ہیں۔ اگر جوابی حملوں کا سلسلہ وسیع ہوا تو یمن کی جنگ ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔
حوثیوں کی متوازی معیشت
ترکیہ میں قائم تھنک ٹینک موخا سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے قائم کردہ متوازی معاشی نظام یمن کی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تجارت، درآمدات، ایندھن، زرِ مبادلہ اور ترسیلاتِ زر کے نظام پر ان کا اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے۔
موخا سینٹر کی جولائی 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق میں 2014 سے 2025 کے دوران جاری کیے گئے تقریباً 68 ہزار تجارتی اندراجات اور لائسنسوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق، حوثیوں سے وابستہ کاروباری نیٹ ورکس کو فروغ ملا، جبکہ روایتی تاجروں کا اثر و رسوخ کم ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ٹیکسوں، کسٹم ڈیوٹی، زکوٰۃ اور دیگر محصولات کے ذریعے مالی وسائل جمع کرتے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں کو اپنے سیاسی مفادات سے جوڑتے ہیں۔ ان محصولات کے باعث مختلف صوبوں کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے اخراجات میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے حوثی باغیوں سے جان چھڑانے کا واحد حل کیا ہے؟ عمار مسعود نے بڑی خبریں دے دیں
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران سے مبینہ مالی معاونت، تیل کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سے منسلک نیٹ ورکس بھی حوثیوں کی مالی سرگرمیوں کے حوالے سے زیرِ بحث رہے ہیں۔
دوسری جانب، یمن کی معیشت کی تقسیم، تیل کی برآمدات میں کمی، پابندیوں اور طویل خانہ جنگی نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 تک یمن کی فی کس حقیقی مجموعی ملکی پیداوار 2015 کے مقابلے میں تقریباً 58 فیصد کم ہو چکی تھی، جبکہ ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت تھی۔
رپورٹ کے مطابق، متوازی معاشی نظام حوثیوں کو جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی قیمت عام شہریوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت، غذائی قلت اور بنیادی سہولتوں کی کمی کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔







