مانسہرہ میں شہری پر وحشیانہ تشدد، عدالت کا سابق ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کے خلاف سنگین دفعات شامل کرنے کا حکم

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مانسہرہ میں پولیس حراست کے دوران شہری پر وحشیانہ تشدد کے معاملے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے سابق ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے میں اغوا، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جسمانی اعضا کو شدید نقصان پہنچانے سے متعلق سنگین تعزیری دفعات شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ دوسری جانب ہائیکورٹ نے بھی متعلقہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے اپنے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ مانسہرہ انعام اللہ خان نے پولیس حراست میں شہری پر بہیمانہ تشدد کے معاملے پر سخت حکم جاری کرتے ہوئے مقدمے کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے درج کی گئی ناقص ایف آئی آر میں اغوا، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جسمانی اعضا کو شدید نقصان پہنچانے سے متعلق سنگین تعزیری دفعات فوری طور پر شامل کی جائیں۔

عدالت نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مانسہرہ کو عدالتی احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو 3 روز کے اندر تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا پابند کیا ہے۔

حبسِ بے جا کی درخواست سے سنگین تشدد کا معاملہ سامنے آگیا

عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ معاملہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے منتقلی کے بعد سامنے آیا، جہاں تھانہ بٹل میں مبینہ غیر قانونی حراست سے شبیر نامی شہری اور دیگر محبوس افراد کی بازیابی کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

دستاویزات کے مطابق عدالتی بیلف کو چھاپے کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پولیس کی جانب سے تھانے کا سی سی ٹی وی نظام خراب ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جسے شواہد مٹانے کی کوشش قرار دیا گیا۔

شہری پر مبینہ تھرڈ ڈگری تشدد، دونوں ٹانگیں اور اعصابی نظام متاثر

30 ستمبر 2026 کو متاثرہ شہری شبیر ولد محمد اشرف کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تو اس کی جسمانی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔

متاثرہ شہری نے اپنے بیان میں الزام عائد کیاکہ سابق ایس ایچ او بشیر نے اسے غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے تفتیشی افسر گل نواز اور آئی ایچ سی ارشد کے حوالے کیا، جنہوں نے اسے نامعلوم مقام پر قید رکھ کر شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ شہری کے مطابق شدید تشدد کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں اور اعصابی نظام بری طرح متاثر ہوئے۔

شہری کی تشویشناک حالت کے پیش نظر عدالت نے اسے فوری طور پر علاج کے لیے کنگ عبداللہ ٹیچنگ اسپتال کے یورولوجی وارڈ منتقل کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر پر عدالت کا اظہار برہمی

جوڈیشل مجسٹریٹ انعام اللہ خان نے اپنے ریمارکس میں نشاندہی کی کہ تھانہ سٹی میں درج مقدمہ نمبر 347/26 میں پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 342 اور 34 شامل کی گئیں، جو انتہائی ناقص اور نامکمل ہیں اور بظاہر ملزم پولیس اہلکاروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔

عدالت کے مطابق سابق چیئرمین غلام سمیت عینی شاہدین کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ سے بادی النظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اہلکاروں نے اپنے عہدوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔

غیر قانونی قید، اغوا اور جسمانی اعضا کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کرنے کا حکم

عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مقدمے میں 10 روز سے زائد غیر قانونی حراست، پولیس کی سرکاری حیثیت کی آڑ میں اغوا و اختطاف اور خطرناک ذرائع سے اعصاب، ہڈیوں اور جسمانی اعضا کو مستقل نقصان پہنچانے سے متعلق تعزیری دفعات فوری طور پر شامل کی جائیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو یہ بھی حکم دیا کہ کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر محمد الیاس سے حتمی میڈیکل بورڈ کی تفصیلی رپورٹ حاصل کرکے اسے کیس ڈائری کا حصہ بنایا جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے واضح ہدایت کی کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ آئندہ 3 روز کے اندر پیش کی جائے۔

عدالت کے تحریری حکم نامے کی نقل ڈی پی او مانسہرہ اور سیشن عدالت کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

ہائیکورٹ نے پولیس اہلکاروں کی ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی

دوسری جانب سابق ایس ایچ او تھانہ بٹل بشیر اعوان، تفتیشی انچارج گل نواز اور آئی ایچ سی محمد ارشد کی جانب سے اپنے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرانے کے لیے ہائی کورٹ میں دائر درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے۔

مذکورہ پولیس اہلکاروں نے اپنے خلاف درج مقدمے کو ختم کرانے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے ان کی درخواست خارج کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp