خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آخری لڑائی ہوگی، 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، ثمر ہارون بلور

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں عزم کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف یہ آخری لڑائی ہوگی، دہشتگردوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ لوگوں کو بے گھر کیے بغیر پائیدار امن قائم کیا جاسکے، تاہم 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے تفصیل سے بتایا کہ 2017-18 میں ان تمام علاقوں کو دہشتگردوں سے کلیئر کروا دیا گیا تھا اور وہاں حالات معمول پر آگئے تھے، لیکن اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں افغانستان سے 28 ہزار دہشتگردوں کو واپس بلایا گیا، جس کے نتیجے میں حالات خراب ہوئے اور دہشتگردی ایک بار پھر بڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں اب پروپیگنڈے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں گے، ثمر ہارون بلور

انہوں نے کہا کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ ریاستی مہمانوں جیسا سلوک کیا گیا، انہیں رہائش اور پیسے دیے گئے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ 28 ہزار دہشتگرد سوات، باجوڑ اور دیر سمیت مختلف علاقوں میں گئے، جبکہ سرحدی علاقوں میں بھی ان کی موجودگی رہی۔ ان کی واپسی کے باعث مقامی لوگوں نے نقل مکانی بھی کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ لوگ ماضی میں کیا کچھ کرچکے ہیں۔ مقامی آبادی کو خونی چوک اور لوگوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعات بھی یاد تھے۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پختون یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بچیاں نیلے برقعے پہن کر تعلیم و تربیت سے محروم ہوکر گھروں میں بیٹھ جائیں، ان کے بچے بندوقیں اٹھالیں، یونیورسٹیاں بند ہوجائیں اور اسپتالوں میں طبی سہولیات دستیاب نہ ہوں۔ ان کے بقول ایک مخصوص گروہ ایسا چاہتا ہے، تاہم اس کے خلاف لڑنے کا عزم کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کرک میں پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں پولیس کے بہادر افسران شہید ہوئے۔ شہید ڈی ایس پی عمران ندیم انتہائی بہادر افسر تھے، انہوں نے پشاور میں بھی ڈیوٹی کی اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا۔ وہ لوگوں کو حوصلہ دیتے تھے کہ پیچھے نہیں ہٹنا، تاہم انہیں شہید کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں جلد امن و ترقی کا دور شروع ہوگا، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور

مشیر اطلاعات نے کہا کہ پولیس کو مضبوط اور مؤثر بنانا ہوگا، اسے بہتر اسلحہ فراہم کرنا ہوگا اور ایسا منظم نظام دینا ہوگا جس کے ذریعے اہلکار دہشتگردوں کا مقابلہ کرسکیں۔

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے آخری لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ وہ ان علاقوں میں گئے تھے، لیکن عام حالات میں کوئی وہاں جانے کی ہمت نہیں کرسکتا اور لوگ اپنی گاڑی کا دروازہ تک نہیں کھول سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے بعد ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں دہشتگرد موجود ہیں۔ سرحد پار سے آنے والے دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کے گروہوں کی موجودگی کا پتا چلایا گیا ہے، جبکہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ ان سے کس طرح نمٹا جائے گا۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے عزم کیا ہے کہ 2 سے 3 ماہ میں واضح فرق نظر آئے گا، تاہم اس بار پالیسی یہ ہوگی کہ امن پائیدار ہو۔ پاک فوج پہلے بھی کئی بار امن قائم کرچکی ہے، لیکن بعد میں حالات دوبارہ خراب ہوجاتے ہیں۔ اب ایسا آپریشن نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑے، بلکہ دہشتگردوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ امن بھی چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کی ریزولوشن کونسل میں شامل افراد اسلام آباد میں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والے لوگ نہیں بلکہ اپنے اپنے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور ان کا مکمل صفایا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی حمایت میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے بیان پر ثمر ہارون بلور کا اظہار تشویش

مشیر اطلاعات نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں کی ترقی پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے، وہاں نہ مناسب اسکول ہیں، نہ پینے کا پانی اور نہ ہی دیگر ضروری سہولیات میسر ہیں۔ بعض علاقے موجودہ صدی کے بجائے ماضی کے کسی دور کا منظر پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا مقصد مقامی لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ان کی زندگی اور ضروریات ریاست کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزید مقامی لشکر نہیں بنائے جائیں گے، تاہم پہلے سے موجود لشکر دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں مدد فراہم کریں گے۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشنز کے لیے فوج پولیس اور مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کرے گی، تاکہ تمام متعلقہ فریق مل کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرسکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

محسن نقوی کا صدر مالدیپ اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ، پاکستانی ثقافت اور صوفی قوالی نے تقریب کو چار چاند لگا دیے

پی آئی اے کا نیا یونیفارم متعارف، معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین نے تیار کیا

پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، 23 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق، براہ راست پروازیں شروع کرنے کا عزم

ویڈیو

مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے کون کون سے ممالک لائن میں ہیں؟

مکہ دفاعی معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، پشاور کے شہریوں کی رائے

پاکستان میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام پر قومی بحث کی ضرورت ہے، نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ میں شرکاء کا اظہار خیال

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟