خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت میں کالعدم فتنہ الخوارج سے منسوب پیغام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ثمر ہارون بلور نے سوال اٹھایا کہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کالعدم دہشتگرد تنظیم پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر اس قدر فکرمند کیوں ہے کہ وہ آئینی تبدیلی کے خلاف بیانات جاری کررہی ہے؟
انہوں نے کہاکہ یہ تشویش ناک بات نہیں کہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کالعدم دہشتگرد تنظیم پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر اس قدر پریشان ہے کہ آئینی تبدیلی کے خلاف بیانات دے رہی ہے؟
ثمر ہارون بلور نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنظیم سابقہ حکومت کے دور میں کافی مطمئن تھی۔
قبل ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات ثمر ہارون نے کہاکہ پشاور میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، جبکہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ کچھ دیگر افراد کو بھی حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، تاہم ابھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما خود روپوش ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کے ضلع میں بدمزگی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ضلع خیبر میں ایک گروہ نے نادرا کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث کچھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ تخریب کاری میں ملوث دیگر افراد روپوش ہوگئے ہیں۔ بعض افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کرلیے گئے ہیں۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ سہیل آفریدی ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے میں نامزد ملزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سہیل آفریدی اور مینا خان نہیں بچ سکیں گے۔














