چینی ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 7 ہزار نوری سال دور 3 ستاروں پر مشتمل ایک نایاب نظام دریافت کیا ہے، جو اپنی مستحکم اور منظم ترتیب کے باعث سائنس فکشن ناول ‘تھری باڈی پرابلم’ میں بیان کردہ افراتفری والے نظام سے مختلف ہے۔
یہ دریافت جنوب مغربی چین میں واقع دنیا کی سب سے بڑی یک رکنی ریڈیو دوربین ‘فاسٹ’ کی مدد سے کی گئی۔ اس نظام میں 2 مردہ ستارے اور ایک زندہ ستارہ شامل ہیں، جو کششِ ثقل کے تحت ایک دوسرے کے گرد گردش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیاروں، ستاروں اور چاند کی حدیں دھندلا گئیں، ماہرین نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر چاند دریافت کر لیا
اس نظام کے 2 مردہ ستاروں میں سے ایک پلسر ہے، جو حیرت انگیز طور پر ہر سیکنڈ میں 300 سے زیادہ مرتبہ اپنے محور پر گھومتا ہے۔ اس کی گردش کی رفتار باورچی خانے میں استعمال ہونے والے بلینڈر کے بلیڈ کی رفتار سے تشبیہ دی گئی ہے۔
دوسرا مردہ ستارہ سفید بونا ہے، جو ایک چھوٹے ستارے کا بجھا ہوا مرکز ہوتا ہے۔ یہ سفید بونا پلسر کے گرد ہر 8 دن میں ایک چکر مکمل کرتا ہے۔
اس نظام کا تیسرا ستارہ سورج سے مشابہ ہے، جو اندرونی دونوں ستاروں کے گرد ایک وسیع مدار میں گردش کرتا ہے۔ اسے اپنے مدار کا ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 73.5 سال لگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
اس دریافت کی خاص بات تینوں ستاروں کی منظم اور متوازن ترتیب ہے۔ اس کے برعکس چینی مصنف لیو سشین کے مشہور سائنس فکشن ناول ‘تھری باڈی پرابلم’ میں تین ستاروں پر مشتمل نظام کو افراتفری اور غیر یقینی صورت حال سے دوچار دکھایا گیا ہے۔
حقیقی نظام میں ستاروں کی منظم گردش اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ تین اجسام پر مشتمل ہر نظام لازماً غیر مستحکم یا تباہ کن نہیں ہوتا۔











