ڈی ایس پی عمران الدین خان، دہشتگردوں کے سامنے ڈٹ جانے والا بہادر افسر وطن پر قربان

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ ایسے بہادر افسران کی لازوال قربانیوں سے عبارت ہے جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ اور وطن عزیز کے دفاع کو اپنا مشن بنایا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ڈی ایس پی عمران الدین خان بھی انہی نڈر اور فرض شناس افسران میں شامل تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً 35 سال پولیس کی خدمت کے لیے وقف کیے اور بالآخر ضلع کرک میں دہشتگردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران جام شہادت نوش کیا۔

شہید ڈی ایس پی عمران الدین خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے گاؤں ترنگزئی سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم چارسدہ ہی سے حاصل کی اور 1991 میں ضلع سوات میں سی آئی ڈی پولیس سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔

تقریباً 35 سال پر محیط پولیس کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف حساس علاقوں میں خدمات انجام دیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں متعدد اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔

عمران الدین خان چیف اینٹی ٹیررسٹ ٹریننگ اسکول ہنگو کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے، جبکہ پشاور میں اینٹی ٹیررسٹ ٹریننگ اسکول (اے ٹی ٹی ایس) کے قیام کے بعد انہیں اسکواڈ کا پہلا انچارج مقرر کیا گیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے باعث انہیں مسلسل حساس مقامات اور دشوار گزار علاقوں میں اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی رہیں۔

’2017 میں زرعی یونیورسٹی پر حملہ، بغیر اسلحہ موقع پر پہنچ گئے‘

2017 میں جب خیبرپختونخوا میں دہشتگردی عروج پر تھی، عمران الدین خان نے ریگی جیسے حساس علاقے میں بھی خدمات انجام دیں۔ اسی سال زرعی یونیورسٹی پشاور پر دہشتگردوں کے حملے کے دوران وہ تھانہ ریگی کے ایس ایچ او کی حیثیت سے، اطلاعات کے مطابق، بغیر اسلحے کے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔

ان کی یہ جرأت مندانہ کارروائی اُس دور کے خطرناک حالات میں پولیس افسران کے احساسِ ذمہ داری اور عوام کے تحفظ کے لیے ان کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی تھی۔

بعدازاں عمران الدین خان سملی ڈیم، اسلام آباد میں قائم اینٹی ٹیررسٹ ٹریننگ اسکول (اے ٹی ٹی ایس) میں کمانڈو تربیت سے متعلق ذمہ داریاں بھی انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے اہلکاروں کی تربیت اور انہیں پیشہ ورانہ فرائض کی مؤثر انجام دہی کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

شہید ایف سی کمانڈنٹ صفوت غیور کو جب عمران الدین خان کی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا علم ہوا تو انہوں نے انہیں اپنے ذاتی محافظ کے طور پر بھی تعینات کیا۔ یہ ذمہ داری عمران الدین خان کی قابلیت اور ان پر کیے جانے والے اعتماد کی عکاس تھی۔

’یکہ توت سے ناصرباغ تک، مشکل علاقوں میں ذمہ داریاں نبھاتے رہے‘

عمران الدین خان 2018 میں تھانہ یکہ توت کے ایس ایچ او تعینات ہوئے، جبکہ 2020 میں انہیں ایک بار پھر ناصرباغ اور ریگی کے علاقوں میں ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کا شمار ایسے افسران میں ہوتا تھا جو حساس اور خطرات سے دوچار علاقوں میں تعیناتی سے کبھی گریز نہیں کرتے تھے۔

تھانہ شاہ پور کے ایس ایچ او شکیل خان کی پشاور کے قریب ناردرن بائی پاس پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں شہادت کے بعد، جب دیگر افسران علاقے میں ڈیوٹی انجام دینے کے لیے تیار نہیں تھے، تو عمران الدین خان نے وہاں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، انہوں نے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کیں اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔

تھانہ متنی کے ایس ایچ او کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے دوران بھی دہشتگردوں کے خلاف عمران الدین خان کی کارروائیوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک کارروائی میں انہوں نے کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر کو ہلاک کیا، جس کے بعد اس کی لاش بکتر بند گاڑی پر رکھ کر علاقے میں گھمائی گئی تاکہ دیگر شرپسند عناصر کے لیے عبرت کا باعث بن سکے۔

’ہنگو میں دہشتگردوں سے مقابلہ، کرک میں آخری معرکہ‘

عمران الدین خان ہنگو میں بھی دہشتگردوں کے ایک حملے کے دوران بہادری سے ان کا مقابلہ کر چکے تھے۔ پشاور، ہنگو، کوہاٹ اور کرک سمیت مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اس بہادر افسر کے لیے دہشتگردی کے خلاف جنگ محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مسلسل آزمائش تھی۔

ضلع کرک عمران الدین خان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آخری مقامِ تعیناتی ثابت ہوا، جہاں وہ دہشتگردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران اپنے ساتھی پولیس اہلکاروں سمیت جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی شہادت نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا پولیس کے ان بہادر افسران کی قربانیوں کو اجاگر کیا ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ صفِ اول میں رہتے ہیں۔

’2 بیویاں، تین بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار‘

شہید ڈی ایس پی عمران الدین خان نے سوگواران میں 2 بیویاں، 3 بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ ان کی شہادت اہل خانہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ جہاں پولیس فورس کے لیے ایک تجربہ کار اور بہادر افسر تھے، وہیں اپنے بچوں کے لیے شفیق والد اور اہل خانہ کے لیے مضبوط سہارا بھی تھے۔

1991 میں پولیس سروس کے آغاز سے لے کر ضلع کرک میں آخری معرکے تک عمران الدین خان کی پیشہ ورانہ زندگی فرض شناسی، جرأت و بہادری اور خطرات کے سامنے ثابت قدم رہنے کی ایک داستان ہے۔

’ملک سعد، صفوت غیور، خان رازق اور عابد خان جیسے شہدا کی صف میں شامل‘

خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں متعدد نامور اور بہادر افسران کی قربانیاں دی ہیں۔ ملک محمد سعد، صفوت غیور، خان رازق، اقبال مہمند اور عابد خان سمیت کئی افسران نے وطن عزیز میں امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ڈی ایس پی عمران الدین خان کی شہادت بھی قربانیوں کے اسی سلسلے کی ایک اور دردناک کڑی ہے۔

شہید ڈی ایس پی عمران الدین خان کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی میں ادا کی گئی، جس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا جواد قمر، آر پی او مردان قاسم علی خان، ڈی پی او چارسدہ رفعت اللہ اور دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ان کی قربانی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس افسران اور اہلکاروں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران بھاری قیمت چکائی ہے۔ ایسے شہدا کے اہل خانہ کی معاونت، ان کے بچوں کی تعلیم و کفالت کو یقینی بنانا اور ان کی قربانیوں کی یاد کو زندہ رکھنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ڈی ایس پی عمران الدین خان اگرچہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، تاہم ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور عظیم قربانی خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وطن عزیز کے دفاع اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ایسے بہادر سپوت بلاشبہ قوم کے محسن ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp