اسرائیل نے مغربی کنارے کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کردیا

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فائرنگ کے واقعے کے بعد مکمل ناکہ بندی کا حکم دے دیا، واقعے میں 5 اسرائیلی زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے 2 مشتبہ فلسطینی حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے داخلی راستے پر قائم ایک فوجی چیک پوسٹ پر پیش آیا، جہاں فوجیوں اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق زخمی ہونے والے 2 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ نے مغربی کنارے میں فلسطینی یادگار تباہ کردی

نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے فوج کو مغربی کنارے میں مکمل ناکہ بندی کی تیاری کا حکم دیا ہے، جس کا آغاز جمعے کی شام سے ہونا تھا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حملہ آوروں کی گاڑی سے بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی ملا ہے۔ فوج کا خیال ہے کہ حملہ آور قریبی شاہراہ 35 پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے، تاہم چیک پوسٹ پر پہنچنے کے بعد انہوں نے وہیں فائرنگ شروع کردی۔

اسرائیلی فوج نے حملہ آوروں کے گھروں پر چھاپے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، جبکہ انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموترچ نے واقعے کے مقام کے قریب واقع متعدد فلسطینی عمارتیں مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبادکاروں کے حملے اور فوجی آپریشن، مغربی کنارے میں کشیدگی کی نئی لہر

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ سالانہ زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہورہے ہیں، جبکہ اسرائیل میں عام انتخابات 4 روز بعد ہونے والے ہیں۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی مہم میں اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کو اہم موضوع بنایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp