امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں نئے فوجی حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک بار پھر ’آپریشن ایپک فیوری‘ شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس 2 راستے ہیں، یا تو وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے یا پھر اسے مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملوں سے بچنے کے لیے ایران کو کن شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران سمجھ داری کا مظاہرہ کرے تو دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے سابقہ فوجی آپریشن ’مڈنائٹ ہیمر‘ نے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت تباہ کر دی تھی اور اس کی فوجی و معاشی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
🚨 NOW: Trump warns the US "may do another little Epic Fury" on Iran
Operation Epic Fury was the US and Israeli strike campaign on Iran that began on Feb. 28
We will accept nothing less than their unconditional surrender!
No more warnings.
The countdown has begun.GAME OVER💥 pic.twitter.com/C5WQoxNtK8
— vanhoa (@vanhoa2272) October 24, 2026
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیریک نے کہا تھا کہ امریکا اسی ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس بیان پر لاعلمی کا اظہار کیا، تاہم بعد میں ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت پر صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز اور فوجی اڈوں سمیت مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ممکنہ حملے کی صورت میں مواصلاتی نظام کی بحالی میں رکاوٹیں ڈالنے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔









