برطانیہ میں ‘فلسطین ایکشن’ پر عائد پابندی کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ 31 اکتوبر کو لندن میں امریکی سفارت خانے اور اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں امریکی قونصل خانے کے باہر 400 سے زائد افراد جمع ہو کر حکومتی فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
یہ احتجاج برطانیہ کی سپریم کورٹ میں 4 اور 5 نومبر کو ہونے والی اس اپیل کی سماعت سے ٹھیک پہلے کیا جا رہا ہے، جو گروپ کی شریک بانی ہدیٰ عاموری کی جانب سے پابندی کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ برطانیہ کی حکومت نے جولائی 2025 میں اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 3,850 سے زائد افراد کو اس کی حمایت کرنے پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔
Over 400 protesters are expected to risk arrest outside the US Embassy in London on October 31, defying the British and US bans on Palestine Action.
■ Defend Our Juries announced the mass demonstration as part of its “Lift the Ban” campaign, with protesters planning to hold… pic.twitter.com/FTdZutOZc7
— VPol (@VocalPolitics1) October 23, 2026
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ فلسطین ایکشن پر پابندی کا فیصلہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں آ کر کیا گیا۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایکٹیوسٹس نے اسکاٹ لینڈ میں ٹرمپ کے گولف کورس پر اسپرے پینٹ کیا تھا، جس کے بعد جولائی میں تنظیم کو کالعدم اور حال ہی میں امریکہ کی جانب سے بھی دہشت گرد تنظیم نامزد کیا گیا۔
اس پابندی کی مخالفت میں سول سوسائٹی، معروف شخصیات اور شوبز اسٹارز بھی شامل ہو چکے ہیں۔ پال میسکل، جوسی بکلی، سوسن سارینڈن اور گاری لائنکر جیسی شخصیات نے حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7 فلسطینی شہید، 24 زخمی
دوسری جانب برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ دفاعی تنصیبات بالخصوص اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایل بٹ سسٹمز پر گھس کر نقصان پہنچانے کی کارروائیاں انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت پابندی کے زمرے میں آتی ہیں۔









