امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وسط مدتی انتخابات سے 2 ہفتے قبل کینیڈا کی بعض مصنوعات پر عائد 50 فیصد ٹیرف میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست مین سے ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کینیڈین مصنوعات کو محصولات سے استثنیٰ دلانے کے لیے امریکی حکام سے لابنگ کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق 30 اکتوبر سے پلائی ووڈ کی چادروں، کاغذ کی بعض مصنوعات، مخصوص مشینری اور ریفریجریشن کے آلات سمیت متعدد اشیا پر ٹیرف میں نرمی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا اتحاد، امریکا کا بائیکاٹ: عوام نے اپنی مصنوعات کو گلے لگا لیا، امریکی سفر بھی منسوخ
بعض پیکنگ کریٹس اور ڈبوں پر بھی محصولات ختم کیے جائیں گے، تاہم قالینوں اور بعض فضلہ جاتی مصنوعات سمیت دیگر اشیا پر نئے ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔
امریکا نے اگست میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کینیڈا کی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اس اقدام کی وجہ امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور شراب کے ساتھ مبینہ غیر مساوی سلوک کو قرار دیا تھا۔
The #Trumpadministration on Friday removed several #Canadianproducts from its 50% #tariff list, a move that comes less than two weeks before the Nov. 3 #midtermelections. https://t.co/QJQbLL80TM
— ANews (@anews) October 23, 2026
کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کیے، کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ان اقدامات کو اپنے ملک کے کارکنوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے کہا کہ انہوں نے ٹیرف میں ریلیف کے لیے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے متعدد بار رابطہ کیا۔
ان کے مطابق یہ رعایتیں ریاست مین کی زرعی صنعت، بالخصوص بلیوبیری، آلو، سیب اور سمندری گھاس کے کاشت کاروں کے لیے اہم ہیں، کولنز نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں اپنی نشست برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانوی اسلامی فنڈ کی اسرائیلی فوج سے منسلک کمپنیوں میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری
تاہم ان کے ڈیموکریٹ حریف ٹرائے جیکسن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے ریاست مین کے شہریوں کے لیے زندگی مہنگی کر دی ہے۔
ان کا الزام تھا کہ کولنز پہلے ان پالیسیوں کی حمایت کرتی رہی ہیں اور اب ان کے اثرات کم کرنے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ اقدام امریکی کارکنوں کے تحفظ اور منصفانہ تجارت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کے وزیر برائے داخلی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ ان کا ملک باہمی مفادات کے احترام پر مبنی تجارتی تعلقات کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنے کو تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے، وزیر اعظم کارنی نے بھی معاہدے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مناسب معاہدے کے لیے کئی ماہ یا کسی دوسری امریکی انتظامیہ تک انتظار کرنا پڑا تو کینیڈا اس کے لیے تیار ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کانگریس پر ری پبلکنز یا ڈیموکریٹس کے کنٹرول کا تعین کریں گے۔









