برطانوی اسلامی فنڈ کی اسرائیلی فوج سے منسلک کمپنیوں میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری

ہفتہ 17 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے سب سے بڑے شریعت کے مطابق سرمایہ کاری کرنے والے فنڈ نے 2026 کی پہلی ششماہی میں اسرائیلی فوج سے منسلک کمپنیوں کے حصص میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔

مشرق وسطیٰ کی نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی تحقیق کے مطابق ایچ ایس بی سی کے اسلامک گلوبل ایکویٹی انڈیکس فنڈ کی سرمایہ کاری نے حلال مالیاتی نظام کے معیار اور اس کے تحت سرمایہ کاری کے طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیدرلینڈز نے امریکا اور کینیڈا سے کتنا سونا برطانیہ منتقل کیا؟ جان کر ہوش اُڑ جائیں گے

رپورٹ کے مطابق برطانوی بینک ایچ ایس بی سی کے اس فنڈ میں برطانیہ کے بیشتر حلال پینشن منصوبوں کی رقوم بھی شامل ہیں، اس سے قبل ہائفن نامی ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ فنڈ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پالنٹیر کے حصص میں 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق فنڈ نے دنیا کی دوسری بڑی اسلحہ ساز کمپنی آر ٹی ایکس کے حصص میں 3 کروڑ 57 لاکھ ڈالر لگائے، اس کی ذیلی کمپنی ریتھیون اسرائیلی دفاعی کمپنی رافیل کے ساتھ مل کر آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے لیے انٹرسیپٹرز تیار کرتی ہے۔

اسلحے کی تجارت کے خلاف سرگرم تنظیم کے مطابق آر ٹی ایکس اسرائیلی فوج کو میزائل اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے ہتھیاروں اور پرزوں کو غزہ میں استعمال ہونے والے ایف 15، ایف 16 اور ایف 35 لڑاکا طیاروں سے بھی جوڑا گیا ہے۔

فنڈ نے امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنی اینالاگ ڈیوائسز میں 2 کروڑ 3 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، رپورٹ کے مطابق کمپنی نے 2024 میں اسرائیل کی بڑی اسلحہ ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمز کو اہم پرزے فراہم کیے تھے۔ ایلبٹ اسرائیلی فوج کے زمینی سازوسامان اور جنگی ڈرونز کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: محبت اور کرپٹو سرمایہ کاری کے نام پر اربوں ڈالر کے فراڈ، اقوام متحدہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اسی طرح امریکی کمپنی ہنی ویل کے حصص میں ایک کروڑ 89 لاکھ ڈالر لگائے گئے، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہنی ویل کا تیار کردہ ایک نظام جون 2024 میں غزہ کے ایک اسکول پر حملے میں استعمال ہونے والے میزائل میں پایا گیا تھا، اس حملے میں کم از کم 40 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 14 بچے اور 9 خواتین شامل تھیں۔

فنڈ نے برطانوی کمپنی رولز رائس کے حصص میں بھی ایک کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، رپورٹ کے مطابق کمپنی کے انجن اسرائیلی مرکاوا ٹینکوں اور بعض فوجی بحری جہازوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

مزید برآں، فنڈ کے پاس برطانوی اسلحہ ساز کمپنی بی اے ای سسٹمز کے تقریباً 94 لاکھ ڈالر مالیت کے حصص بھی موجود ہیں۔ یہ کمپنی ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پرزے تیار کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں غیر یقینی سیاسی صورتحال، ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قیمت گرگئی

پالنٹیر کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ جنگی کارروائیوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا تھا، اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے 2025 کی ایک رپورٹ میں کمپنی کی ٹیکنالوجی اور فوجی کارروائیوں میں خودکار فیصلہ سازی کے ممکنہ کردار پر تشویش ظاہر کی تھی۔

اسلامک فنانس گرو کے شریک بانی ابراہیم خان نے کہا کہ ان فنڈز کے سرمایہ کاری کے معیار فوری طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں، تاہم انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایچ ایس بی سی کو مسلم برادری کے تحفظات سنجیدگی سے سننے چاہییں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے نئے وزیر خزانہ جان ہیلی پر سب کی نظریں، اینڈی برنہم کے معاشی ایجنڈے کا اصل امتحان شروع

رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل سے منسلک کاروباروں سے سرمایہ نکالنے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔

مئی میں مڈل ایسٹ آئی نے بتایا تھا کہ برطانیہ کے سب سے بڑے سرکاری شعبے کے پنشن سرمایہ کاری ادارے بارڈر ٹو کوسٹ نے گزشتہ سال اسرائیلی حکومتی بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری فروخت کر دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp