اردن کے جنوبی علاقے کرک کے ایک چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 7 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔ پاکستان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اردن کی حکومت اور عوام سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ جمعے کو کرک گورنری کے گاؤں حمود میں واقع یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں پیش آیا، جہاں لوگ جنازے میں شریک تھے۔ مسلح افراد گاڑی سے اترے اور وہاں موجود افراد پر فائرنگ کردی، جس کے بعد وہ فرار ہوگئے۔
🇯🇴 Shouting Allah Hu Akbar, Muslim terrorists attack a Church funeral in a Christian village in Hamoud of Jordan, killing Seven and wounding ten people, some were critically injured. pic.twitter.com/pUDUKO1Qiz
— Oxomiya Jiyori 🇮🇳 (@SouleFacts) October 24, 2026
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اردن کے محکمۂ پبلک سکیورٹی کے سربراہ نے 7 افراد کی ہلاکت اور 34 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ زخمیوں میں سے 27 اسپتالوں میں زیرِ علاج تھے۔
حکام نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں عیسائی برادری ایک بار پھر نشانے پر، چرچ پر حملہ اور توڑ پھوڑ
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اردنی حکام نے واقعے کے بعد تحقیقات اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
پاکستان کی جانب سے حملے کی مذمت
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اردن کے کرک گورنری میں چرچ کے اندر جنازے کی تقریب پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔
بیان کے مطابق پاکستان نے اردن کی حکومت اور برادر عوام، خصوصاً جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
🔊PR No.3️⃣0️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Pakistan Strongly Condemns the Terrorist Attack in Karak, Jordan
🔗⬇️ pic.twitter.com/7hf0vM2CgD
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 24, 2026
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں اردن کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کی ہر شکل اور ہر نوعیت کی سخت مذمت کا اعادہ کیا۔









