بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں زیر تعمیر ایک چرچ پر مشتعل افراد کے حملے اور توڑ پھوڑ کے واقعے نے ریاست میں عیسائی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں پر ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی رام مندر میں کرپشن اسکینڈل، جنرل سیکریٹری اور ٹرسٹی مستعفی
چرچ رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 5 جولائی کو ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے علاقے سبھاش گرام میں پیش آیا جہاں ایک ہجوم نے زیرِ تعمیر چرچ پر دھاوا بول کر عمارت کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچایا اور وہاں نصب صلیبیں بھی توڑ دیں۔
Bengal Has Never Witnessed Such An Incident Before
Sanghis are Demolishing a Newly Built Church in Subhashgram, #Baruipur . The Cross on top of the Church can be clearly seen being broken.
Along with “Jai Shri Ram” Slogans.
It is now gradually becoming clear that a Double… pic.twitter.com/waFgVFYBJK
— তন্ময় l T͞anmoy l (@tanmoyofc) July 7, 2026
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں متعدد افراد کو چرچ میں توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی رہائشیوں اور چرچ حکام کے مطابق حملے کے دوران بعض افراد نے ’جے شری رام‘ اور ’ہندو ہندو بھائی بھائی‘ کے نعرے بھی لگائے۔
مزید پڑھیے: بھارت: مسلمانوں سے ایک اور تاریخی مسجد چھین لی گئی، دیوی براجمان
چرچ رہنماؤں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں حملہ آوروں کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
چرچ رہنماؤں کی تشویش
چرچ حکام کا کہنا ہے کہ سبھاش گرام کا واقعہ اسی روز ریاست کے مختلف اضلاع میں پیش آنے والے ایسے کئی واقعات کا حصہ ہے جس سے عیسائی برادری کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے، آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حق کا تحفظ کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں 45 روز کے دوران 23 مسلم مذہبی مقامات کی مسماری پر عالمی تشویش، مودی حکومت شدید تنقید کی زد میں
مقامی رہائشیوں نے اس حملے کو نہ صرف عبادت گاہ بلکہ اپنی مذہبی شناخت پر بھی حملہ قرار دیا۔
مختلف اضلاع میں عیسائی برادری کو نشانہ بنانے کے الزامات
دریں اثنا مرشد آباد ضلع میں برنالی چٹرجی نامی ایک عیسائی بیوہ خاتون پر مبینہ حملہ کیا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنا مذہب ترک کرنے سے انکار کیا تھا۔
مقامی رپورٹس کے مطابق حملہ آور ان کے گھر میں داخل ہوئے، سامان کی توڑ پھوڑ کی اور مبینہ طور پر ہندو مندر کی تعمیر کے لیے ان پر اپنی زمین حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
اسی طرح بانکورا ضلع میں پادری راجیب داس نے الزام لگایا کہ چند افراد نے ایک دعائیہ اجتماع میں مداخلت کی، بائبلیں ضبط کر لیں اور خواتین و بچوں سمیت متعدد افراد کو کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھا تاہم بعد میں کسی مقدمے کے بغیر انہیں رہا کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت: مسجد کی جانب تیر چلانے پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی
ایک اور واقعہ سونار پور کے علاقے میں واقع میزو سائنڈ چرچ میں پیش آیا جہاں چرچ رہنماؤں کے مطابق نامعلوم افراد نے کھڑکیاں توڑ دیں، عبادت گاہ کی بے حرمتی کی، موسیقی کے آلات کو نقصان پہنچایا اور دیواروں پر دھمکی آمیز تحریریں درج کر دیں جن میں مستقبل میں دعائیہ اجتماعات منعقد نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی۔
ادھر پوربا بردھمان ضلع میں گریس چرچ کے پادری سورجیت گھوش نے بتایا کہ اتوار کی عبادت کے دوران ایک ہجوم چرچ میں داخل ہوا، توڑ پھوڑ کی اور عبادت میں شریک افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ کے خلاف جھوٹے الزامات بھی پھیلائے گئے تاکہ لوگوں کو مشتعل کیا جا سکے۔
بنگال کرسچین کونسل کا ردعمل
مشرقی اور شمال مشرقی بھارت میں مختلف عیسائی فرقوں کی نمائندہ تنظیم بنگیا کرسچیو پریشیبا (بنگال کرسچین کونسل) نے متاثرہ چرچوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
A cross is being removed from the roof of a place of worship while a crowd gathered below chants, "Jai Shri Ram."
The current law-and-order situation and social climate in West Bengal are causing anger and concern among many people.#WestBengal #WorldTibetDay#MetaShot pic.twitter.com/1DWDqdgJ5J
— Baat Kadvi Hai (@PoliticalGyie) July 6, 2026
تنظیم نے مغربی بنگال حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے، اقلیتی برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور آئینی طور پر حاصل مذہبی آزادی کے حق کا مکمل دفاع کیا جائے۔
مذہبی آزادی پر بین الاقوامی تشویش
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مئی 2026 میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ایک بار پھر امریکی محکمہ خارجہ کو سفارش کی کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث ’خاص تشویش کا حامل ملک‘ قرار دیا جائے۔
واشنگٹن میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران کمیشن کی چیئرپرسن وکی ہارٹزلر نے کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور قومی، ریاستی اور مقامی سطح پر بعض پالیسیاں اور اقدامات مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امتیازی قوانین، مذہبی رہنماؤں کی من مانی گرفتاریاں اور اقلیتی برادریوں پر حملوں کی روک تھام میں ناکامی جیسے عوامل مذہبی آزادی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
امریکی رکن کانگریس کرس اسمتھ نے بھی بھارت کے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں مجوزہ ترامیم سے غیر سرکاری تنظیموں اور مذہبی اداروں پر حکومتی کنٹرول مزید بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کا مظفرآباد کی مسجد پر پہلا حملہ اور پاک فوج کے آپریشن کا نام ’بُنیان مَرصُوص‘، مماثلت کیا ہے؟
ادھر اقوام متحدہ کے ماہرین، جن میں اقلیتوں کے امور سے متعلق خصوصی نمائندہ بھی شامل ہیں، بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال، مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور مبینہ امتیازی پالیسیوں پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔













