وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لاہور کہا ہے کہ ویمن کرکٹ کو یونیورسٹی سطح پر فروغ دینے کے لیے پی سی بی 20 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کرے گا، جبکہ ملک میں ٹیلنٹ کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے ہفتہ کے روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا اہم پروگرام خواتین کرکٹ کو مضبوط بنانا اور نچلی سطح پر نیا ٹیلنٹ تلاش کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 11 میں شائقین کی واپسی کے لیے کوششیں جاری، چیئرمین پی سی بی کا وزیر اعظم سے دوبارہ رابطے کا اعلان
ہم یہ چاہتے ہیں کہ ویمن کرکٹ میں بھی بالکل ویسا ہی شاندار ٹیلنٹ سامنے آئے جس طرح ہمارے لڑکوں کا ٹیلنٹ دنیائے کرکٹ میں ابھر رہا ہے۔ ہمارے ملک میں کرکٹ کا ٹیلنٹ اس کثرت سے موجود ہے کہ اسے سنبھالنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں شفاف نظام
انہوں نے کہا کہ عاقب جاوید اور دیگر کوچز نے ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے دن رات بہت محنت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے تک قومی کرکٹ ٹیم کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، لیکن آج اللہ کا شکر ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کھلاڑیوں کی سلیکشن کسی سفارش کے بغیر مکمل طور پر ڈیٹا بیس اور کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت کی جا رہی ہے۔
اسکول اور یونیورسٹی کی سطح پر کرکٹ کا غیرمعمولی پوٹینشل
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان انڈر 19 ٹیم کے 11 کھلاڑی براہ راست اسکولوں سے آئے ہیں جنہوں نے حال ہی میں انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دی ہے۔ اسی طرح انڈر 17 ٹیم کے 12 کھلاڑی بھی اسکول کرکٹ کا حصہ رہ چکے ہیں۔
اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پوٹینشل بہت زیادہ ہے اور ہم ان بچوں کی ٹریننگ، خوراک اور گرومنگ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
نالیاں بنانے کے بجائے بچوں پر سرمایہ کاری وقت کی ضرورت
لاہور کی اس تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ کرکٹ، ہاکی، فٹبال اور ایتھلیٹکس میں بے پناہ ٹیلنٹ چھپا ہے لیکن ہم اس کا ایک فیصد بھی استعمال نہیں کر رہے۔
ہم آج ایک گولڈ میڈل کے لیے ترستے ہیں، لیکن ان شا اللہ اگر ہم کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کریں گے تو درجنوں گولڈ میڈل جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں روایتی ترقیاتی کاموں یعنی ’نالیاں بنانے کے بجائے ان ہونہار بچوں پر انویسٹ کرنا ہوگا‘۔









