بائیں بازو کے رہنما لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے 51.8 فیصد ووٹ لے کر صدارتی انتخاب جیت لیا، فلیویو بولسونارو نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نتائج کالعدم قرار دینے کی درخواست دینے کا اعلان کردیا۔
برازیل کے بائیں بازو کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب میں ڈرامائی کامیابی حاصل کرتے ہوئے چوتھی بار منصبِ صدارت سنبھالنے کی راہ ہموار کرلی۔ سرکاری نتائج کے مطابق لولا دا سلوا نے 51.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف فلیویو بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔ لولا نے اپنے مخالف کے مقابلے میں تقریباً 44 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ ان کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ارجنٹینا، چلی، کولمبیا اور پیرو سمیت خطے کے متعدد ممالک میں دائیں بازو کی سیاست کو تقویت ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیے برازیل صدارتی انتخابات: موبائل فون چوروں کے خلاف کارروائی، امیدوار بڑھ چڑھ کر وعدے کرنے لگے
45 سالہ فلیویو بولسونارو سابق انتہائی دائیں بازو کے صدر ژائیر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جو 2022 کے انتخابات میں لولا دا سلوا سے شکست کے بعد مبینہ طور پر بغاوت کی کوشش کے جرم میں 27 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ فلیویو نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست دیں گے۔ ان کے مطابق ووٹنگ کا وقت 2 گھنٹے بڑھانے کا فیصلہ ناقابلِ قبول اور ایک ’ گندی چال‘تھا۔ سپریم کورٹ نے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ بند ہونے کے بعد وقت میں توسیع کی تھی۔ لولا نے شکایت کی تھی کہ مختلف شہروں میں بسیں سڑکوں سے ہٹائے جانے کے باعث شہری ووٹ ڈالنے سے محروم رہ سکتے ہیں، جبکہ فلیویو نے بھی شدید بارشوں کے باعث بعض علاقوں میں وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی۔
پہلے مرحلے میں شکست کے بعد لولا کی انتخابی مہم نے دوبارہ زور پکڑا۔ ان کے حامیوں نے بڑے عوامی اجتماعات منعقد کیے اور سوشل میڈیا پر مہم تیز کردی۔ ووٹنگ سے گریز کرنے والے شہریوں کی شرح بھی پہلے مرحلے کے 21 فیصد سے کم ہوکر 19 فیصد رہ گئی۔ لولا نے کامیابی کے بعد کہا کہ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ ووٹ ڈالنا ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کی جماعت ورکرز پارٹی کے حامیوں نے ریو ڈی جنیرو اور ساؤ پالو سمیت مختلف شہروں میں جشن منایا۔ لولا نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ضابطوں کا پابند بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، کیونکہ ان کی انتخابی مہم نے میٹا پر الگورتھم کے ذریعے مخالف امیدوار کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا، تاہم کمپنی نے اس الزام کی تردید کی۔
یہ بھی پڑھیے برازیل صدارتی انتخاب: لوئیز اناسیو اور فلیویو بولسونارو 25 اکتوبر کو آمنے سامنے
لولا دا سلوا نے غربت سے اقتدار تک کا سفر طے کیا اور 2003 میں پہلی بار صدر منتخب ہوئے، جبکہ 2006 میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 18 ماہ سے زائد قید رہنے کے بعد ان کے خلاف الزامات طریقۂ کار کی بنیاد پر کالعدم قرار دیے گئے اور وہ 2022 میں دوبارہ اقتدار میں آئے۔ ان کے گزشتہ دور میں مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی آئی اور لاکھوں افراد کو بھوک سے نکالنے میں مدد ملی، تاہم مہنگائی، جرائم اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں پر عوامی تشویش برقرار ہے۔ اب تقریباً نصف ووٹرز کی مخالفت کے باوجود لولا کو دائیں بازو کے غلبے والی کانگریس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و سفارتی دباؤ کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کامیابی کے بعد واضح کیا کہ برازیل کسی دوسرے ملک کا تابع بننے کو قبول نہیں کرے گا۔









