سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے تاریخی انتخابی فتح تو حاصل کر لی ہے، جس کے ساتھ دائیں بازو کے پاپولسٹ رہنما الیگزینڈر ووچیچ کے 14 سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ بھی ہو گیا ہے، لیکن طلبہ تحریک اس وقت حکومت سازی کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 2 سال پر محیط انسدادِ کرپشن مظاہروں کی کوکھ سے جنم لینے والی یہ طلبہ تحریک اب حکومت سازی کی تیاری کر رہی ہے لیکن اس تحریک کی باقاعدہ کوئی قیادت نہ تھی، جس سے حکومتی عہدوں کے لیے کون نامزد ہوگا، اس حوالے مشکلات کا سامنا ہے۔
تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟
1 نومبر 2024 کو نووی ساد ریلوے اسٹیشن کے داخلی دروازے کا کنکریٹ سائبان گر گیا، جس میں 16 افراد جاں بحق ہوئے۔ اسٹیشن کی حال ہی میں تزئین و آرائش کی گئی تھی، اس لیے اس سانحے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔
واقعے کی فوری تحقیقات کے مطالبے پر شروع ہونے والے پُرامن احتجاج مہینوں میں پھیلتے چلے گئے۔ یہ مظاہرے 2000 میں آمر سلوبودان میلوشیوچ کے زوال کے بعد ریکارڈ کیے گئے سب سے بڑے مظاہروں میں شمار ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:نیشنز لیگ: آئرلینڈ کے ہاتھوں اسرائیل کو بدترین شکست، آئرش کھلاڑیوں کا غزہ کے شہدا سے اظہار یکجہتی
شروع ہی سے اس احتجاج کی قیادت جامعات کے طلبہ نے کی۔ انہوں نے اہم اداروں کا گھیراؤ کیا اور ملک گیر ریلیاں منظم کیں، زبردست تحریک چلی، جس میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔یہ تحریک کی کوئی بھی قیادت نہیں کر رہا تھا یہ تحریک فیصلہ سازی پر استوار ہے۔
قبل از وقت انتخابات اور طلبہ کی فہرست
سانحے کی دوسری برسی سے ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل ووچچ نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا۔ طلبہ نے اس موقع پر ایک انتخابی فہرست ترتیب دی، جس میں زیادہ تر امیدوار تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں سے لیے گئے۔ یہ تمام امیدوار کسی بڑی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں۔
جیت کیسے ممکن ہوئی؟
تحریک نے اپنی انتخابی مہم ووچچ کی مخالفت کے گرد استوار کی اور ان معاملات کو ایک طرف رکھا جو اس کے حامیوں میں تقسیم پیدا کر سکتے تھے۔
سیاسی تجزیہ کار دوسان ووچیچیوچ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ انتخاب جیتنے کے لیے طلبہ کو دونوں طرح کے ووٹروں کی حمایت درکار تھی، یعنی یورپ نواز اور یورپ مخالف۔
مہم کا محور کرپشن، قانون کی حکمرانی اور آزادیٔ صحافت پر حملے رہے۔ احتجاج کے دوران پروان چڑھنے والی اجتماعی فیصلہ سازی کا یہ طریقہ انتخابی مہم میں بھی جاری رہا۔
قیادت کون کرے گا؟
تحریک بارہا اس ’شخصیت پرستی‘ کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی ہے جو دہائیوں سے ملکی سیاسی نظام پر حاوی رہی ہے۔
دوسان ووچیچیوچ کے مطابق تحریک نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ وزیراعظم کون ہو گا، یعنی حکومت کی قیادت کا سوال کھلا ہے۔
نمایاں شخصیات میں امراضِ قلب کے ماہر ایلیا سرداونووچ شامل ہیں، جنہوں نے انتخابی امیدواروں کی فہرست خود تیاری کی تھی۔ کیمسٹری کے پروفیسر رادومیر سائچچ بھی مہم میں نمایاں رہے۔
تاہم دوسان ووچیچیوچ نے واضح کیا کہ سربیا میں وزیراعظم کا رکنِ پارلیمنٹ ہونا ضروری نہیں۔ ان کے بقول ’ان کے پاس دیگر افراد موجود ہیں جنہیں وہ حکومت میں لا سکتے ہیں۔ ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔‘
اہم پالیسیاں کیا ہوں گی؟
وسیع اصلاحاتی منشور پر عمل درآمد کے لیے نومنتخب امیدواروں کو تیزی سے کام کرنا ہو گا۔ اس منشور کا مرکزی نکتہ کرپشن کے خلاف جنگ ہے۔
خارجہ پالیسی پر تحریک نے نسبتاً کم تفصیلات دی ہیں۔ اس نے پہلے کہا تھا کہ وہ یوکرین پر حملے کے باعث روس پر پابندیاں عائد کرنے سے سربیا کے انکار کو برقرار رکھے گی۔
مزید پڑھیں:ایک سال میں 20 ملین بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، یونیسیف کی ہوشربا رپورٹ جاری
سربیا اب بھی سستی روسی گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جبکہ اسے یورپی یونین کے بھاری قرضوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔ ایسے میں طلبہ کو غالباً ووچچ کا سیاسی توازن برقرار رکھنے والا طرزِ عمل ورثے میں ملے گا۔
دوسان ووچیچیوچ کے مطابق فی الحال طلبہ کی توجہ زیادہ تر داخلی امور پر رہے گی، کیونکہ وہ ’نظام مخالف ووٹروں‘کو متحد کرنے اور اختلافات کو پس پشت ڈالنے کی انتخابی حکمتِ عملی پر کاربند ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحریک کی مجوزہ اصلاحات سربیا کو یورپی یونین کے قریب لے جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ نے اپنے اعلانات پر عمل کیا تو وہ سربیائی معاشرے کو یورپی یونین کی رکنیت کی جانب محض یورپی پرچم لپیٹنے سے کہیں زیادہ قدم اٹھائیں گے۔
ووچچ کا مستقبل کیا ہو گا؟
ووچچ 2012 سے نائب وزیراعظم رہے، پھر وزیراعظم بنے اور آخر میں صدر، دوسان ووچیچیوچ کے مطابق وہ ’سیاسی طور پر مردہ ہو چکے‘ ہیں۔
انہوں نے انتخابات سے قبل صدارت سے استعفیٰ دیا تاکہ وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر حصہ لے سکیں۔ ان کی جماعت سربین پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) نے پارلیمنٹ میں 100 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔
صدارتی انتخابات جلد ہونے والے ہیں، مگر ووچچ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں اور ایس این ایس کے پاس کوئی واضح امیدوار بھی موجود نہیں ہے۔
ممکنہ مقدمات کا سوال بدستور موجود ہے اور اس کا انحصار اس پر ہو گا کہ طلبہ قانون کی حکمرانی بحال کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔











