اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 21 ممالک میں محض ایک سال کے دوران 20 ملین بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی جانب سے تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے ہوشربا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔
اقوم متحدہ کے ادارے کے مطابق اس استحصال کے زیادہ تر واقعات معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر بچوں کی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
About 20 million internet-using children across 21 countries were subjected to sexual exploitation or abuse on digital platforms in a single year, with most cases occurring on social media platforms, a new report by the U.N. children’s charity said on Thursday.
Read more at:… pic.twitter.com/GR3nVshc9U
— Ariana News (@ArianaNews_) September 3, 2026
ہوشربا اعداد و شمار اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومتیں اور ٹیک کمپنیاں فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
یہ بھی پڑھیں:قومی اسمبلی نے انسداد زنا بالجبر ترمیمی بل کی منظوری دیدی، بچوں کا استحصال ناقابل ضمانت جرم قرار
واضح رہے کہ یونیسیف کی یہ تحقیق اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سٹڈی قرار دی جا رہی ہے جس کا ڈیٹا 2020 سے 2025 کے درمیان جمع کیا گیا۔
اس سروے میں پاکستان، کینیا، برازیل اور سربیا سمیت 21 ممالک کے تقریباً 21,000 انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کو شامل کیا گیا تاکہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو درپیش خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
اعداد و شمار اور استحصال کی اقسام
رپورٹ کے مطابق افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ میں 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر 5 میں سے ایک بچے نے کم از کم ایک بار آن لائن استحصال کا سامنا کیا۔
سروے کیے گئے ممالک میں تقریباً 15 ملین بچوں کو غیر اخلاقی مواد دکھایا گیا، 9 ملین پر جنسی گفتگو یا تصاویر شیئر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، جبکہ 4 ملین بچوں کی تصاویر ان کی مرضی کے بغیر شیئر کی گئیں۔
About 20 million internet-using children across 21 countries were subjected to sexual exploitation or abuse on digital platforms in a single year, with most cases occurring on social media platforms, a new report by the UN children’s charity said https://t.co/VuWhHYHdu2
— Reuters (@Reuters) September 3, 2026
یونیسیف کے مطابق اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو یہ تعداد کئی کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
سوشل میڈیا ایپس کا کردار اور کمپنیوں کا مؤقف
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ استحصال کے 60 فیصد سے زیادہ واقعات فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک پر پیش آئے، جبکہ 14 فیصد واقعات آن لائن گیمنگ کے دوران ہوئے۔
مزید پڑھیں:برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کا ہولناک اسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار
میٹا کے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سروے 2020 سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد ہم نے بچوں کے تحفظ کے لیے کئی نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں اور ہم مجرموں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد کر رہے ہیں‘۔
اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کی جانب سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے کم عمر صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے پرائیویسی سیٹنگز کو ڈیفالٹ پر پرائیویٹ کر دیا ہے اور شکایتی ٹولز کو مزید مؤثر بنایا ہے۔
جاننے والے افراد ملوث اور رپورٹنگ کا فقدان
اس رپورٹ کا ایک انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ کیسز میں استحصال کرنے والا کوئی ایسا شخص تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، جن میں دوست، رشتہ دار یا قریبی جاننے والے شامل ہیں۔
دوسری جانب 38 فیصد بچوں کا مجرموں سے پہلا رابطہ آن لائن ہی ہوا۔ خوف اور شرمندگی کے باعث 1 فیصد سے بھی کم بچوں نے پولیس، سوشل ورکرز یا ہیلپ لائنز پر ان واقعات کی رپورٹ درج کرائی۔
مصنوعی ذہانت کا ابھرتا خطرہ اور نفسیاتی اثرات
تحقیق میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے خطرناک استعمال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
9 ممالک سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق 1.1 ملین بچوں نے تصدیق کی کہ ان کی اے آئی کے ذریعے بنائی گئی جعلی غیر اخلاقی تصاویر یا ویڈیوز انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:بچوں کے استحصال پر زیرو ٹالرنس، سہولتکاروں اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اعلان
اس آن لائن استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات اور خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان دیگر بچوں کی نسبت 4 گنا زیادہ پایا گیا۔
یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘یہ تجربات گہرے جذباتی اور ذہنی صدمے کا باعث بنتے ہیں، بہت سے بچے خاموشی سے یہ دکھ سہتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ مدد کے لیے کہاں جائیں’۔
یونیسیف نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سیفٹی اقدامات کو سخت کریں اور اے آئی سمیت دیگر نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے قوانین کو ہنگامی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کریں۔














