وفاقی آئینی عدالت نے 17 لاکھ روپے کے گیس بل میں ریلیف کے خلاف سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی درخواست پر سماعت کے دوران گیس چوری اور محکمے کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
مزید پڑھیں:جمعیت علمائے اسلام کی مخصوص نشست کا معاملہ، وفاقی آئینی عدالت میں 29 اکتوبر کو سماعت
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ایس این جی پی ایل کو 17 لاکھ روپے کی غیر قانونی گیس کے استعمال کا کب پتا چلا؟ کسی نے تو 17 لاکھ روپے کی گیس ضائع کی ہے، جبکہ غریب عوام مہنگی گیس خرید رہے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ صارف پر چھاپے کے شواہد کہاں ہیں اور موقع سے کیا ثبوت قبضے میں لیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ گیس چوری یا غلط استعمال کو محکمہ کیسے ثابت کرے گا؟
ایس این جی پی ایل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صارف نے گھریلو گیس کنکشن تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور محکمے کی جانب سے باقاعدہ چھاپے کے دوران گھریلو میٹر سے تجارتی استعمال ثابت ہوا۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ کیا صارف سی این جی اسٹیشن، تندور یا ہوٹل چلا رہا تھا؟ وکیل نے جواب دیا کہ گھریلو گیس اسپتال کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں محکمہ جواب دینے سے بھاگ گیا، یہ ادارے کی نااہلی ہے اور ملازمین اے سی کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ انھوں نے محکمہ گیس کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تو بدنام ہے، محکمہ گیس میں بھی بڑے تماشے ہیں۔
مزید پڑھیں:کم سنی شادی کیس، وفاقی آئینی عدالت کا شہر یار اور ماریہ کو دوبارہ نوٹس
جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ گیس چوری یا غلط استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور ایس این جی پی ایل جیسے بڑے ادارے کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ سماعت کے دوران ایس این جی پی ایل کے وکیل نے متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے اجازت دے دی۔
محکمہ گیس نے پشاور کے صارف عرفان علی کو 17 لاکھ روپے کا بل بھیجا تھا، جس کے خلاف صارف نے متعلقہ عدالت سے رجوع کرکے ریلیف حاصل کیا۔ ایس این جی پی ایل نے صارف کے حق میں فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔










